اٹلی میں سیاسی بحران، متبادل اتحاد کی تلاش

Image caption سنیچر کو صدر نیپولیٹانو نے ملک میں سیاسی تسلسل کی اپیل کی تھی

اٹلی کی کابینہ سے سابق وزیرِاعظم سلویو برلسکونی کی پارٹی کے وزراء کے استعفے کے بعد زبردست سیاسی بحران پیدا ہوگیا اور اس سے نکلنے کے لیے اطالوی صدر متبادل راستے تلاش کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق سلویو برلسکونی کی پارٹی اور وزیر اعظم انریکو لیٹّا کی سنٹر- لفٹ جماعت کے مابین خراب تعلقات کے نتیجے میں یہ پیش رفت ہوئی ہے۔

اطالوی صدرجیورجیو نیپولیٹانونے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ وہ اس بات کی کوشش کریں گے کہ کوئی نیا اتحاد بن سکے اور تازہ انتخابات نہ کرانا پڑے۔

سنیچر کو صدر نیپولیٹانو نے ملک میں سیاسی تسلسل کی اپیل کی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ’ہمیں ایک ایسی پارلیمان کی ضرورت ہے جو بحث کرے اور کام کرے اور ایسی پارلیمان نہیں جو اکثرو بیشتر ٹوٹتی رہے۔‘

انھوں نے مزید کہا ’ہم ملک میں ہمیشہ انتخابی مہم نہیں چاہتے۔ حکومت کے عمل، فیصلوں اور ملک کے مسائل کے حل کے لیے اٹھائے گئے اقدام میں تسلسل کی ضرورت ہے۔‘

اس سے قبل برلسکونی نے یہ دھمکی دے تھی کہ اگر ان کو ٹیکس فراڈ کے معاملے میں سینیٹ سے نکالا گیا تو وہ اپنی جماعت سے تعلق رکھنے والے وزراء کو حکومت سے الگ کر دیں گے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اطالوی صدر کسی نئے اتحاد کو سامنے لانے میں ناکام ہوتے ہیں تو معاشی مسائل سے دوچار اٹلی میں اس بحران کے نتیجے میں نئے انتخابات کرانے پڑ سکتے ہیں۔

وزیرِاعظم انریکو لیٹّا اپنی حکومت کو بچانے کی غرض سے جمعہ کو نیو یارک سے فوراً واپس آ گئے۔

وزیرِاعظم نے جمعہ کو رات گئے کہا کہ اگر ان کی حکومت اعتماد کا ووٹ حاصل نہیں کر سکی تو وہ استعفی دے دیں گے۔

یاد رہے کہ اعتماد کے لیے اطالوی پارلیمنٹ میں اگلے ہفتے ووٹنگ ہو رہی ہے۔

برلسکونی کی جماعت پیپل آف فریڈم (پی ڈی ایل) سیلز ٹیکس میں حکومت کے مجوزہ اضافے کے خلاف ہے ہر چند کہ اٹلی کے بڑے قرضوں کو کم کرنے کے ضمن میں یہ حکومت کی وسیع پالیسی کا حصہ ہے۔

برلسکونی نے کہا تھا ’میں نے حکومت میں پی ڈی ایل کے نمائندوں کو اس لیے مدعو کیا ہے کہ وہ اس بات پر غور کریں کہ آیا مستعفی ہونا ان کے حق میں ہے۔‘

دوسری جانب پی ڈی ایل کے سیکریٹری اینجلینو الفانو نے مسٹر لیٹّا پر ’ان معاہدوں کی سنگین خلاف ورزی کا الزام لگایا جن پران کی حکومت بنی ہوئی ہے۔‘

اس کے برعکس وزیرِاعظم نے مستعفی ہونے کی دھمکی پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے پی ڈی ایل پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپنے ذاتی مقاصد کے لیے سیلز ٹیکس کو بہانہ بناکر اٹلی کے باشندوں سے ایک ’بہت بڑا جھوٹ‘ بول رہے ہیں۔

Image caption برلسکونی کی پارٹی نے حکمراں اتحاد سے اپنے وزراء کے استعفے کا اعلان کیا ہے

انھوں نے کہا کہ ’پارلیمنٹ میں ہر ایک کو قوم کے سامنے اپنے عمل کی ذمہ داری لینی ہوگی۔‘

عدالت کی طرف سے ٹیکس فراڈ کے مقدمے میں برلسکونی کی سزا برقرار رکھنے کے بعد سینیٹ کی ایک کمیٹی آئندہ ہفتے برلسکونی کو سینیٹ سے نکالنے یا نہ نکالنے کا فیصلہ کرے گی۔

روم میں بی بی سی کے نامہ نگار ایلن جونسٹن کا کہنا ہے حکومت گرنے والی ہے جبکہ برلسکونی سینیٹ سے نکالے جانے کی کوششوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

ادھر برلسکونی سے منسلک قانونی مسائل کو حکومت کے اتحاد میں تنازعے کی بڑی وجہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ایک اطالوی عدالت نے سابق وزیرِاعظم سلویو برلسکونی کو اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھانے اور کم عمر طوائف سے جنسی تعلقات قائم کرنے کے جرم میں سات برس قید کی سزا سنا رکھی ہے ا ور ان پر ٹیکس فراڈ کا بھی الزام ہے۔

اسی بارے میں