کولمبیا: انکار کے باوجود جیسی اپنے مشن پر کمربستہ

Image caption جیسی جیکسن نے فارک باغی رہنماؤں سے ہونا میں ملاقات کے بعد امریکی مغوی کی بازیابی کے لیے ثالثی کی پیش کش کی ہے

انسانی حقوق کے امریکی کارکن ریو جیسی جیکسن نے کہا ہے کہ کولمبیا کی حکومت کے انکار کے باوجود وہ مغوی امریکی فوجی کی بازیابی کے لیے کولمبیا جائيں گے۔

واضح رہے کہ سنیچر کو کولمبیا کے صدر جوان مینئل سانتوس نے جیسی جیکسن کی ثالثی کی پیش کش کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ فارک باغیوں سے مغوی کی بازیابی کے حوالے سے کوئی ’میڈیا تماشا‘ نہیں چاہتے۔

کولمبیا کے صدر نے کہا تھا کہ صرف ریڈ کراس کو مغوی کی بازیابی کے معاملے میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے گي۔

دریں اثناء باغیوں نے صدر سے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی اپیل کی ہے۔

کولمبیا: جیسی جیکسن کی ثالثی کی پیشکش مسترد

اس کے علاوہ ریڈ کراس کی بین اقوامی کمیٹی (آئی سی آر سی) نے اتوار کو کہا تھا کہ وہ اس معاملے میں شامل ہونے سے قبل معاہدے کا انتظار کر رہے ہیں۔

آئی سی آر سی کے ترجمان اریکا توور نے کولمبیائی اخبار ال سپکٹیڈرو سے بات کرتے ہوئے کہا تھا: ’جب طرفین (فارک اور حکومت) کسی معاہدے پر متفق ہو جائیں، اس کے بعد ہم لوگ اپنا کردار نبھانا شروع کریں گے۔‘

اس سے پہلے جیسی جیکسن سابق امریکی فوجی کیون سکاٹ سیوٹے کی بازیابی کے لیے آئندہ ہفتے کولمبیا جانے پر راضی ہو گئے تھے۔ کیون سکاٹ نے افغانستان کی جنگ میں بھی حصہ لیا تھا۔

کیون سکاٹ کو کولمبیا کے سب سے بڑے باغی گروپ فارک نے جون میں پکڑ لیا تھا جو کہ مبینہ طور پر لڑائی والے علاقے سے برازیل جا رہے تھے۔

واضح رہے کہ ریو جیکسن نے فارک رہنما سے کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں ملاقات کی تھی جہاں یہ رہنما حکومت سے امن قائم کرنے پر بات چیت کے لیے پہنچے تھے۔ انھوں نے کہا تھا کہ وہ ایک دو روز میں کولمبیا جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ریو جیکسن نے ہوانا میں اخباری نمائندوں سے کہا کہ وہ آج بھی جانے کے لیے تیار ہیں ’لیکن ہمیں جنگ بندی زون اور ان کو حاصل کرنے کے حق کی ضرورت ہے۔‘

باغیوں کا کہنا ہے کہ وہ امریکی فوجی کو رہا کرنے کے لیے تیار ہیں اور انہوں نے اتوار کو اس بابت کولمبیا کی حکومت سے اپیل بھی کی ہے کہ وہ اس بابت کوئی قدم اٹھائیں اور سکاٹ کی رہائی میں مزید تاخیر نہ ہونے دیں اور اس کے لیے ضروری سکیورٹی فراہم کریں۔

ستمبر کے اوائل میں کولمبیا کے دورے کے دوران جیسی جیکسن نے کولمبیا میں باغیوں کے سب سے بڑے گروپ فارک سے کیون سکاٹ کو رہا کرنے کی اپیل کی تھی۔

Image caption کولمبیا کے صدر جوان مینئل سانتوس مغوی کی رہائی کے لیے صرف ریڈ کراس کی ثالثی کے حق میں ہیں

بائیں بازو کی طرف جکاؤ رکھنے والے فارک باغیوں نے سنیچر کو اس اپیل کا جواب دیتے ہوئے جیسی جیکسن کو مغوی کی بازیابی کے حوالے سے مذاکرات میں حصہ لینے کی دعوت دی تھی۔

فارک باغیوں کی طرف سے دعوت کے چند گھنٹوں بعد جیسی جیکسن نے کیوبا کے دورے کے دوران اس دعوت کو قبول کیا۔ جیسی نے کولمبیا کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے کیوبا آئے ہوئے فارک باغیوں کے رہنماؤوں سے ملاقات بھی کی۔

فارک باغیوں کا کہنا ہے کہ کیون سکاٹ کی رہائی سے کیوبا میں کولمبیا کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے ’ماحول بہتر ہو جائے گا۔‘

حکومت اور باغیوں کے درمیان چھ نکات میں سے صرف ایک پر اتفاق ہوا ہے اور وہ زمینی اصلاحات ہے۔

کولمبیا میں گذشتہ پچاس سال سے جاری اندرونی کشیدگی سے لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔

کولمبیا کے تاریخ کے سینٹر کی طرف سے کیے گئے ایک مطالعہ کے مطابق اب تک تشدد میں 220000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں