بنگلہ دیشی رکنِ پارلیمان کو سزائے موت

Image caption صلاح الدین چوہدری پر نسل کشی، تشدد اور جنسی زیادتی کے الزامات عائد کیے گئے تھے

بنگلہ دیش میں جنگی جرائم کے خصوصی ٹربیونل نے رکنِ پارلیمان صلاح الدین قادر چوہدری کو نسل کشی کے جرم میں سزائے موت سنا دی ہے۔

چونسٹھ سالہ صلاح الدین چوہدری بنگلہ دیش کی حزبِ اختلاف کی اہم جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے سینیئر رہنما ہیں۔

وہ ساتویں ایسی شخصیت ہیں جنہیں اس ٹربیونل نے جنگی جرائم کے مبینہ ارتکاب پر سزائے موت دینے کا حکم دیا ہے۔

ٹربیونل کے مطابق انہیں 1971 کی جنگِ آزادی کے دوران تشدد، جنسی زیادتی اور نسل کشی جیسے جرائم کا مرتکب پایا گیا۔

ان پر دو سو شہریوں کی ہلاکت کے علاوہ پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر نہتے شہریوں پر تشدد کرنے اور انہیں ہلاک کرنے سمیت دیگر جرائم کی فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔

بنگلہ دیش میں حکام نے اس فیصلے کے بعد مظاہروں کے پیشِ نظر دارالحکومت ڈھاکہ اور صلاح الدین چوہدری کے آبائی علاقے میں سکیورٹی فورس تعینات کر دی ہے۔

بنگلہ دیش میں جنگی جرائم کے ٹربیونل نے گزشتہ چند ماہ کے دوران جنگ سے متعلق مبینہ جرائم پر حکومت مخالف جماعتوں کے کئی رہنماؤں کو قید اور موت کی سزائیں سنائی ہیں۔

ملک کی اپوزیشن نے حکومت پر سیاسی انتقام لینے کے الزامات لگائے ہیں اور ان سزاؤں کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں پرتشدد مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔

Image caption صلاح الدین کو سزا دیے جانے پر خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے

انسانی حقوق کے گروپوں کا بھی کہنا ہے کہ مقدمات کی سماعت کرنے والا ٹربیونل بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں بنایا گیا ہے۔

بنگلہ دیشی حکومت نے یہ خصوصی ٹربیونل 2010 میں بنایا تھی جس کا مقصد ان ملزمان پر مقدمہ چلانا تھا جنہوں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر اس وقت کے مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش بننے کی مخالفت کی تھی۔

بنگلہ یش کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ 1971 میں جنگ کے دوران تین ملین افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ بعض محققین کے مطابق اس جنگ میں تین سے پانچ لاکھ کے درمیان لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں