روحانی بھیڑ کی کھال میں بھیڑیا ہیں:نتن یاہو

Image caption ’اسرائیل ایران کو کبھی بھی ایٹمی ہتھیار تیار کرنے نہیں دے گا چاہے اس کو ایسا اکیلا ہی کیوں نہ کرنا پڑے‘

اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران کے صدر حسن روحانی ’بھیڑ کی کھال میں بھیڑیا‘ ہیں اور اقوامِ عالم ایران سے تعاون نہ کریں۔

یہ بات انہوں نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ اسرائیل ایران کو کبھی بھی ایٹمی ہتھیار تیار کرنے نہیں دے گا چاہے اسے ایسا اکیلا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

اسرائیلی وزیر اعظم کے خطاب کے جواب میں ایران نے کہا ہے کہ ایٹمی ہتھیار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور اسرائیلی وزیر اعظم کا خطاب ’انتہائی اشتعال انگیز‘ تھا۔

جنرل اسمبلی سے خطاب میں اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ایران ان کے ملک کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔ انہوں نے دیگر ممالک سے استدعا کی کہ ایران پر عائد پابندیوں کو ختم نہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی صدر حسن روحانی کے بھی وہی عزائم ہیں جو سابق صدر محمود احمدی نژاد کے تھے۔ ’احمدی نژاد بھیڑیے کی کھال میں بھیڑیا تھے جبکہ حسن روحانی بھیڑ کی کھال میں بھیڑیا ہیں۔‘

واضح رہے کہ امریکی صدر براک اوباما نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ انہوں نے فون پر اپنے ایرانی ہم منصب سے گفتگو کی ہے۔ یہ گذشتہ 34 سالوں میں دونوں ممالک میں اعلیٰ ترین سطح پر پہلا رابطہ تھا۔

صدر روحانی نے ٹویٹ کیا کہ میں اس وقت امریکی صدر اوباما سے بات کر رہا ہوں۔ صدر روحانی نے اوباما سے کہا ’آپ کا دن بہترین گزرے،‘ صدر اوباما نے جواب دیا ’شکریہ، خدا حافظ۔‘

ایرانی صدر نے مزید ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’اس فون پر گفتگو میں صدر روحانی اور صدر اوباما نے باہمی طور پر جوہری تنازع کے سیاسی حل کے عزم کا اظہار کیا۔‘

ایرانی صدر کی ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ’صدر اوباما نے صدر روحانی کو کہا میں آپ اور ایرانی عوام کی عزت کرتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں بہتری سے خطے میں بڑے پیمانے پر بہتری آئے گی۔ اگر ہم جوہری معاملے پر پیش رفت کرتے ہیں تو دوسرے معاملات، جیسا کہ شام کا معاملے پر بھی مثبت اثر پڑے گا۔‘

آخر میں صدر اوباما نے صدر روحانی کو کہا کہ وہ ’ان کے واپسی کے خوش گوار سفر کی دعا کرتے ہیں اور اگر انہیں نیویارک کی بے ہنگم ٹریفک کا سامنا کرنا پڑا ہے تو وہ اس کے لیے معذرت چاہتے ہیں۔‘

اسی بارے میں