کینیا میں بین المذاہب دعائیہ تقریبات

Image caption کینیا کے ریڈ کراس ادارے کا کہنا ہے ویسٹ گیٹ پر حملے کے بعد اب بھی 61 افراد لاپتا ہیں

کینیا میں ویسٹ گیٹ شاپنگ سنٹر پر شدت پسندوں کے حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی یاد میں ایک بین المذاہب دعائیہ تقریبات منعقد ہوئی ہیں۔

گذشتہ ماہ 21 ستمبر کو ویسٹ گیٹ شاپنگ سنٹر پر چار دن تک جاری رہنے والے حملے میں 67 افراد مارے گئے تھے۔ حملے کی ذمہ داری ہمسایہ ملک صومالیہ کے شدت پسند گروپ الشباب نے قبول کی تھی۔

حملہ آور شاپنگ سنٹر میں کرائے دار تھے

خودکش حملہ آور کی بیوہ کے وارنٹ جاری

کینیا میں تین روزہ قومی سوگ کا اعلان

منگل کو ان دعائیہ تقریبات میں کینیا کے صدر اورو کنیاٹا، ان کے نائب ویلم روتو اور حزب اختلاف کے رہنما ریل اوڈینگا شرکت کر رہے ہیں۔

اس سے پہلے پیر کو کینیا کی پارلیمان کے ارکان نے ملک میں صومالی پناہ گزینوں کا کیمپ بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ان دعائیہ تقریبات کا انعقاد کینیا میں بین المذاہب کونسل نے کیا ہے اور اس میں مختلف مذاہب کے اعلیٰ مذہبی رہنما شرکت کر رہے ہیں۔ ان رہنماؤں نے اجتماع کے سامنے بنائے گئے سٹیج پر ایک ساتھ بیٹھ کر ملک میں قومی اتحاد اور مصالحت کی ضرورت پر زور دیا۔

دارالحکومت نیروبی میں منعقدہ تقریب میں بشپ جیری کیباربرا نے تقریب میں شامل افراد سے کہا کہ وہ کھڑے ہو کر ایک دوسرے سے ہاتھ ملائیں اور کہیں’امن۔‘

یہ دعائیہ تقریبات قومی ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر کی جا رہی ہیں اور اس کے علاوہ نجی ٹی وی چینل این ٹی وی ان نشریات کو’دعاؤں میں متحد‘ کے نام سے پیش کر رہا ہے اور اس کے ساتھ’ہم ایک ہیں‘ کا عنوان بھی ہے۔ ویسٹ گیٹ پر حملے کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اسی عنوان کے تحت حملے کی مذمت کی گئی تھی۔

مختلف مذاہب اور نسلی گروہوں سے تعلق رکھنے والے بچوں نے اجتماع کے سامنے پیغامات پڑھے۔

کینیا میں مسلمانوں کی سپریم کونسل کے سیکرٹری جنرل عدن واچو کے مطابق ’مذہب شدت پسندی نہیں اور شدت پسندی مذہب نہیں، اسلام امن ہے۔‘

ایک دوسرے مذہبی رہنما نے کہا کہ مذہب کا غلط استعمال کیا گیا ہے اور بین المذاہب کونسل میں شامل رہنما کا مقصد اس غلط تصور کو ختم کرنا ہے۔

کینیا کے ریڈ کراس ادارے کا کہنا ہے کہ ویسٹ گیٹ شاپنگ سنٹر پر حملے میں 67 ہلاکتوں کے علاوہ اب بھی 61 افراد لاپتا ہیں۔

صومالیہ میں الشباب کے خلاف لڑنے والی حکومت حامی افواج کے ساتھ لڑنے کے لیے کینیا نے تقریبا چار ہزار فوجیوں کو بھیج رکھا ہے۔ امریکہ اور روس نے اس تنظیم پر پابندی لگا رکھی ہے اور ایسا سمجھا جا رہا ہے کہ صومالیہ میں اس گروپ کے تقریباً سات ہزار سے نو ہزار کے درمیان جنگجو سرگرم ہیں۔

اسی بارے میں