آسٹریلوی فوجیوں کا قاتل پاکستان سےگرفتار

Image caption افغان فوجیوں کی جانب سے اتحادی افواج کے ارکان پر حملوں میں 2012 میں بہت تیزی دیکھی گئی تھی

آسٹریلوی فوج نے کہا ہے کہ گذشتہ برس افغانستان میں تین آسٹریلوی فوجیوں کی ہلاکت کے مبینہ ملزم سابق افغان فوجی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

آسٹریلیا کی ڈیفنس فورس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ڈیوڈ ہرلے نے بتایا ہے کہ حکمت اللہ نامی اس سابق فوجی کو پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی نے رواں سال کے آغاز میں پکڑا تھا۔

بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ’رات کو اسے افغانستان منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اس پر تین افراد کے قتل کا مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ حکمت اللہ کی گرفتاری سے انہیں فروری میں ہی آگاہ کر دیا گیا تھا تاہم ان کی افغانستان منتقلی میں تاخیر انتظامی معاملات کی وجہ سے ہوئی۔

حکمت اللہ پر الزام ہے کہ انہوں نے گذشتہ اگست میں وسطی افغانستان کے صوبہ ارزگان میں واقع ترین کوٹ کے فوجی اڈے پر موجود آسٹریلوی فوجیوں پر اس وقت فائرنگ کی تھی جب وہ فارغ وقت میں تاش کھیل رہے تھے۔

اس واقعے میں تین آسٹریلوی فوجی ہلاک اور دو زخمی ہوگئے تھے۔ حکمت اللہ اس واقعے کے بعد فرار ہو کر پاکستان چلے گئے تھے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ان ہلاکتوں کی تحقیقات کرنے والی آسٹریلوی کمیٹی نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ حملے سے قبل اڈے پر سکیورٹی بہت ناقص تھی اور اسی وجہ سے افغان فوجی اس علاقے تک پہنچ سکا جہاں فائرنگ ہوئی۔ اس کے علاوہ موقعے پر موجود کئی آسٹریلوی فوجیوں نے بلٹ پروف جیکٹیں بھی نہیں پہنی ہوئی تھیں۔

کمیٹی کی رپورٹ میں تین آسٹریلوی فوجیوں کے خلاف انضباطی کارروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ افغانستان میں افغان فوجیوں کی جانب سے اتحادی افواج کے ارکان پر حملوں میں 2012 میں بہت تیزی دیکھی گئی تھی۔

آسٹریلیا کے 1550 فوجی افغانستان میں تعینات ہیں اور اب تک ان میں سے سات افغان فوجیوں کے حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں