چین میں بھڑوں کے حملوں میں 41 ہلاک ہو چکے ہیں

Image caption ماہرین کے مطابق بڑھتی ہوئی شہری آبادی کی وجہ سے ایسے واقعات میں اضافہ ہوا ہے

چین میں سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک کے شمالی علاقے میں جولائی سے اب تک بڑی بھڑوں کے کاٹنے سے 41 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

چین کے شمالی علاقوں میں بھڑ کی یہ نسل پانچ سینٹی میٹر لمبی اور اس کا ڈنگ چھ ملی میٹر تک ہوتا ہے۔

چین کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق شمالی صوبے شنکسی میں بھڑوں کے کاٹنے کے واقعات میں 1600 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

خبر رساں ادارے کے مطابق اب بھی 206 افراد ہسپتالوں میں زیرعلاج ہیں اور ان میں سے 37 کی حالت نازک ہے۔

مقامی حکام کے مطابق ہو سکتا ہے کہ رواں سال خشک اور گرم موسم کے سبب اس علاقے میں بھڑوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

مالیاتی ماہرین نے تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی کو اس کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دیہی علاقے شہروں میں شامل ہو رہے ہیں اور ان علاقوں میں یہ بھڑ پہلے شکار اور اپنے چھتے بناتی تھیں۔

صوبے کے شہر آہنژانگ، شونگلو اور آنگکانگ گزشتہ تین ماہ کے دوران بھڑوں کے حملوں سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

صوبائی حکومت نے حشرات کے ماہرین کو علاقے میں روانہ کیا ہے تاکہ مسئلے پر قابو پایا جا سکے۔

سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق پولیس اور آگ بجھانے والے عملے کو خصوصی کپڑوں سمیت ضروری آلات دیے گئے ہیں تاکہ ان بھڑوں کے چھتوں کو علاقے سے ہٹایا اور تلف کیا جا سکے۔

صوبہ شنکسی میں بھڑوں کے کاٹنے کے واقعات اکثر پیش آتے رہتے ہیں تاکہ حکام نے گزشتہ سال ان واقعات میں کسی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی تھی۔

آنگکانگ میں مقامی حکومت کے اہلکار زاؤ فانگ نے ڈیلی چائنہ اخبار کو بتایا کہ بھڑوں کے کاٹنے کے واقعات میں حالیہ سالوں میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ’ ماحولیاتی نظام میں بہتری آئی ہے‘۔

علاقے میں سردیوں کی شدت میں کمی، گرمی اور ہوا میں نمی میں اضافہ ہو رہا ہے اور شائد اسی وجہ سے بھڑوں کی افزائش میں اضافہ ہوا ہو۔

اسی بارے میں