پل چرخی جیل میں قید کے دن

Image caption لطف اللہ لطیف کے ذہن پر پل چرخی جیل میں گزارے دن آج بھی ڈروانے خوابوں کی طرح نقش ہیں

افغانستان میں سنہ انیس سو ستر کی دہائی کے آخر میں کمیونسٹ حکومت کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے والوں کی یاد میں دو روز کے سوگ منایا جا رہا ہے۔

کمیونسٹ حکومت کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے والوں میں زیادہ تر قدامت پسند، اسلام پسند حکومت مخالفین اور مخالف کمیونسٹ دھڑوں سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے۔

بی بی سی پشتو سروس کے لطف اللہ لطیف بھی ان لوگوں میں شامل تھے جنہیں پلِ چرخی جیل میں قید رکھا گیا۔ وہ اُن دنوں کو یاد کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

یہ نومبر انیس سو اٹھہتر تھا۔ میں نے میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وزارتِ صحت میں نوکری اختیار کی تھی۔

ایک دن سہ پہر کو تین سرکاری اہلکار میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ مجھے پوچھ گچھ کر غرض سے وزارتِ داخلہ بلایا گیا ہے۔

میرا ماتھا ٹھنکا کیونکہ میں زمانہ طالب علمی میں سیاست میں بہت سرگرم رہا تھا۔ اس وقت بہت سے لوگوں کو گرفتار کیا جا رہا تھا اور حکومت سبھی لوگوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتی تھی۔

لیکن مجھے یہ خیال نہیں تھا کہ یہ مشکل وقت تیرہ ماہ طویل ہو جائے گا اور پھر میں اس دور کو کبھی نہیں بھلا پاوں گا۔

ابتدائی ایک ہفتے میں مجھے سونے نہیں دیا گیا اور ہر روز آدھی رات کو مجھے سے تفتیش کی جاتی تھی۔

وہ ہر روز ایک ہی سوال پوچھتے تھے۔ وہ کون لوگ ہیں جو حکومت کے خلاف منصوبے بنا رہے ہیں؟ آپ کبھی ان اجلاسوں میں شریک ہوئے؟ ان کے کیا ارادے ہیں؟

میرے وہم و گماں میں بھی نہیں تھا کہ وہ کیا پوچھنا چاہتے ہیں۔

Image caption پل چرخی جیل کے قیدیوں میں زیادہ تر تعداد سیاسی مخالفین کی تھی

ایک رات وہ بجلی سے چلنے والی ایک مشین لے کر آئے۔ اس کے ایک سرے پر ایک ہینڈل تھا اور جس میں تاریں لگی ہوئی تھی جو انھوں نے میرے پیروں کی انگلیوں سے لگا دیں۔

انھوں نے مجھے بجلی کے جھٹکے دینے شروع کئے۔ ہر مرتبہ جب وہ ہینڈل گھوماتے تھے بجلی کے جھٹکے شدید سے شدید تر ہوتے چلے جاتے تھے۔

یہ سلسلہ پھر ہر کئی روز تک جاری رہا اور آخر کار ایک دن انھوں نے مجھ سے کہا۔ ’دیکھو اگر تم کچھ لکھ کر نہیں دو گے تو تم یہاں سے باہر نہیں نکل پاو گے۔‘ لہذا میں نے ایک کہانی بنائی لیکن کس پر کوئی الزام نہیں لگایا۔ ایک ہفتے بعد مجھے وہاں سے نکال لیا گیا۔

میرے خیال میں مجھے رہا کیا جا رہا تھا فی الحقیقت مجھے پلِ چرخی جیل منتقل کیا جا رہا تھا۔

مجھے ایک بڑے ہال نما کمرے میں رکھ گیا۔ وہاں پر میرے علاوہ ایک سو بیس افراد موجود تھے۔ ان میں سے کچھ کو میں پہچان سکتا تھا۔ جن میں کچھ ڈاکٹر، سرکاری ملازم اور یونیورسٹی کے طالب علم شامل تھے۔

وہاں پر بمشکل اتنی جگہ تھی کہ فرش لیٹا جا سکے۔ ہر قیدی کو دو کمبل دیئے گئے اور بس۔ اس کمرے کے ایک کونے میں ہم آگ جلاتے تھے۔ ہم باری باری کمرے میں لیٹتے تھے کیونکہ وہاں ایک ساتھ سب کے لیٹنے کی جگہ نہیں تھی۔ ہم دن میں دو مرتبہ کمرے سے باہر لے جایا جاتا تھا جہاں برآمدے میں ہم چہل قدمی کرتے تھے۔

Image caption کابل میں ستر کی دہائی کے آخر میں کمیونسٹ حکومت نے سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لیے ہر حربہ آزمایا

یہاں پر کوئی سہولت مہیا نہیں تھی۔ نہ پانی اور نہ ہی حجابت کے لیے مناسب بندوبست تھا۔ پانی کی ایک ٹنکی تھی اور کچھ بلٹیاں فراہم کی گئی تھیں۔ بیت الخلاء لکڑی کے چند ڈبے تھے جن میں نیچے زمین میں گڑھے تھے۔ سینکڑوں قیدی ہر روز ان کے باہر قطار میں اپنی باری کا انتظار کرتے تھے۔ چہلی قدمی کے وقفے ان قطاروں میں انتظار کرتے گزر جاتے تھے۔ آپ کھانا کھانے سے بیمار پڑ جاتے تھے زیادہ تر قیدی خشک روٹی اور جیل کی کینٹین سے ملنے والی چائے ہر گزارا کرتے تھے۔

میرے خاندان والوں کو کچھ علم نہیں تھا کہ میں کہاں ہوں۔ انھوں نے بعد میں مجھے بتایا کہ وہ میرے بارے میں معلوم کرنے کے لیے جیل کے چکر کاٹتے رہے۔ چھ ہفتوں کے بعد وہ مجھے کپڑے اور کچھ پیسے بھیجنے میں کامیاب ہوئے۔

میری گرفتاری کے چار ماہ بعد صدر کو ہلاک کر دیا گیا اور نائب صدر نے اقتدار سنبھال لیا۔ جیلوں کے لیے نئے گورنر مقرر کر دیا گیا اور ہمارے حالات بھی بہتر ہونے لگے۔

Image caption نوجوانی میں ڈاکٹر لطیف سیاست میں سرگرم تھے

ہمیں چہل قدمی کے لیے زیادہ وقت دیا جانے لگا۔ ہمیں اخبارات ملنے لگے اور ہمارے کمرے میں ایک چھوٹا سا ٹی بھی لگا دیا گیا۔

ایک دن دو سو قیدیوں کے ایک گروپ کو باہر لیے جایا گیا اور پھر ہمیں گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دیں۔

ہم نے یہ خبریں سنی تھیں کہ جیل کے باہر سنسان علاقے میں قیدیوں کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ بعد میں اس جگہ سے قبریں اور لاشیں بھی ملی تھیں۔

رات کے وقت جیلوں کا گورنر ہمارے کمرے میں آ جاتا تھا۔ وہ واضح طور پر نشنے کی حالت میں ہوتا تھا۔ ایک ہاتھ میں لمبی سی چھڑی اور ایک ہاتھ میں پستوں تھامے وہ قیدیوں کو لیکچر دینا شروع کر دیتا تھا کہ کس طرح حکومت کے مخالفین کو ختم کر دیا جائے گا۔ ہم سب کو اس کی باتوں پر تالیاں بجانا پڑتی تھیں اور جو کوئی ایسا نہیں کرتا تھا اس کو زد و کوب کیا جاتا تھا۔

ایک مرتبہ میرے ساتھ بیٹھے ہوئے قیدی کو نیند آ گئی۔ گورنر نے اس دیکھ لیا اور اس کو پکڑ کر اٹھا لیا۔

اس کو اس بری طرح مار گیا کہ اس کی پسلیاں اور اس کا جبڑا ٹوٹ گیا۔ خون میں لت پت حالت میں اس کو لے گئے اور ہم نے اسے پھر کبھی نہیں دیکھا۔

Image caption سنہ انیس سو ستر کی دہائی کے آخر میں کابل نے کئی سیاسی تبدیلیاں دیکھیں

دسمبر سنہ انیس سو اناسی میں سویت فوج نے صدر کا تخت الٹ دیا۔ صبح آٹھ بجے ہمیں فائرنگ کی آواز آنا شروع ہوئی۔ ان آوازوں میں شدت آتی گئی اور دس بجے کے قریب فوجیوں نے جیل کے گارڈز پر قابو پا لیا۔

ہم نے افغان اور روسی فوجیوں کو راہ رادیوں میں بھاگتے دیکھا۔ وہ ہمارے کمرے میں آئے اور کہا کہ آپ کو کل رہا کر دیا جائے گا۔

اگلے روز وہ بسیں لے کر آئے اور ہمیں شہر میں لے جا کر آزاد کر دیا گیا۔ میں نے ٹیکسی کی اور اپنے ایک رشتے کے بھائی کے ساتھ جسے میرے بعد قید کیا گیا تھا اپنے گھر چلا آیا۔

جب ہم گھر پہنچے تو میرے رشتے کے بھائی نے میری والدہ سے کہا ’دیکھیے میں آپ کے لیے کیا لایا ہوں۔ میں نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ میں اسے ڈھونڈ نکالوں گا۔‘

!"