کال سینٹرز میں جیبیں سٹیپلر سے بند

جمیکا کے کال سینٹرز کے منتظمین اپنے کارکنوں کی جیبیں سٹیپل سے بند کرتے ہیں تاکہ وہ صارفین کے بارے میں معلومات چوری نہ کرسکیں۔

اطلاعات کے مطابق کال سینٹرز کے مالکان اپنے صارفین کے بارے میں معلومات کو صیغہ راز میں رکھنے کے حوالے سے اتنے محتاط ہیں کہ وہ کئی بار نوکری دینے سے قبل جھوٹ پکڑنے کی مشین سے امیدواروں کا ٹیسٹ لیتے ہیں۔

ایک کال سینٹر کے مالک ڈیون کرمپ کا کہنا ہے کہ کچھ مالکان اتنے محتاط ہیں کہ وہ اپنے سٹاف کی جیبیں سٹیپلر سے بند کرتے ہیں تاکہ وہ یو ایس بی جیسی چیزوں پر معلومات ڈاؤن لوڈ کر کے چوری نہ کریں۔

کرمپ کا کہنا ہے ’صاف بات یہ ہے کہ یہ تمام کال سینٹرز پر کیا جاتا ہے۔‘ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے غیر ملکی کمپنیوں کا اعتماد بحال ہوتا ہے۔

کال سینٹرز کی نمائندہ تنظیم کا تاہم کہنا ہے کہ صارفین کے اعتماد کے لیے کارکنوں کا مکمل سکیورٹی چیک کیا جاتا ہے جس میں جھوٹ پکڑنے کی مشین کا ٹیسٹ بھی شامل ہے۔

واضح رہے کہ جمیکا میں فون کا فراڈ ایک بڑا کاروبار ہے اور ایک اندازے کے مطابق ایک روز میں تقریباً تیس ہزار فون کالیں فراڈ ہوتی ہیں۔

فیس بک پر حسن روحانی کا بٹن

فیس بک کا کہنا ہے کہ اس کی فارسی کی ویب سائٹ پر ’پوسٹ‘ کا بٹن کئی گھنٹوں کے لیے ہائی جیک کرلیا گیا تھا۔

پوسٹ کے بٹن کی بجائے ادھر ایرانی صدر حسن روحانی کو خراج تحسین پیش کرنے کا بٹن آ گیا تھا۔

فیس بک کا کہنا ہے کہ یہ بٹن چند گھنٹوں سے زیادہ نہیں رہا اور اس کو درست کر لیا گیا۔

ٹی وی چینل کا عملہ بھوک ہڑتال پر

زمبابوے کے ریاستی ٹی وی چینل کا عملہ اپریل سے تنخواہ نہ ملنے کے خلاف بھوک ہرتال پر ہے۔

زمبابوے براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ بھوک ہرتال کا مقصد تنخواہوں کا حصول اور طبی سہولت دوبارہ شروع کرانا ہے۔

زمبابوے براڈ کاسٹنگ کارپوریشن چار ریڈیو سٹیشنز اور دو ٹی وی چینل چلاتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق زمبابوے براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کے اعلیٰ اہلکاروں کو دو لاکھ ڈالر تنخواہ ملتی ہے اور وہ نئی سے نئی مرسڈیز اور ٹویوٹا گاڑیاں چلاتے ہیں۔