امریکہ: شٹ ڈاؤن جاری، مذاکرات ناکام

Image caption امریکہ میں آٹھ لاکھ سرکاری ملازموں کو بغیر تنخواہ کے چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے

امریکی صدر براک اوباما اور کانگریس کے رہنماؤں کے درمیان مالیاتی بل پاس کرنے کے معاملے پر مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں۔

امریکہ میں وفاقی حکومت کی سرگرمیاں پیر اور منگل کی درمیانی شب اس وقت جزوی طور پر معطل ہو گئی تھیں جب حزبِ اختلاف کی اکثریت والے ایوانِ نمائندگان سے آئندہ مالی سال کا بجٹ منظور نہ ہونے کے بعد وائٹ ہاؤس نے کچھ وفاقی محکموں کو کام بند کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

صدر براک اوباما نے ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایوانِ نمائندگان کے سپیکر جان بینر اور سینیٹ میں ریپبلکن رہنما سینیٹر مچ میک کونل اور کانگریس میں ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین سے وائٹ ہاؤس میں بدھ کی شام مذاکرات کیے۔

شٹ ڈاؤن جاری،’ہیلتھ کیئر پر سمجھوتہ نہیں ہوگا‘

امریکہ شٹ ڈاؤن: تصاویر

امریکی شٹ ڈاؤن: کون متاثر ہوگا؟

جان بینر یہ کہہ کر بات چیت سے چلے گئے کہ’ ڈیموکریٹس مذاکرات نہیں کرنا چاہتے۔‘ انھوں نے کہا کہ یہ ’نرم گفتگو تھی‘ جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

سینیٹ کے ریپبلکن رہنما مچ میک کونل نے مذاکرات کو ’بے سود‘ قرار دیا۔

ایونِ نمائندگان میں ڈیموکریٹ رہنما نینسی پلوسی نے جو اس اجلاس میں شامل تھیں، ریپبلکن رہنماؤں پر بجٹ پر اتفاق کرنے کے لیے مذاکرات کے دوران ’اپنے اہداف‘ بدلنے کا الزام لگایا۔

سینیٹ میں ڈیموکریٹ کی اکثریتی رہنما ہیری ریڈ نے کہا کہ اس کی پارٹی مذاکرات کے دوران’ اوباما کے صحت کے منصوبے‘ پر اکھڑی رہی، نہ صدر اور نہ ہی ڈیموکریٹک رہنماؤں نے اداروں کی بندش ختم کرنے کے لیے ہیلتھ کیئر منصوبے کے بارے میں قوانین میں تبدیلی پر آمادگی ظاہر کی۔

واشنگٹن کو شاید ایک اور کرائسز کا سامنا کرنا پڑے۔ اگر قرضے کی حد نہیں بڑھائی گئی تو سترہ اکتوبر کو امریکی حکومت کے پاس اپنے اخراجات کے لیے رقم ختم ہو جائے گی۔

ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکن پارٹی کی اکثریت ہے۔ ریپبلکن رہنماؤں نے وفاقی حکومت کو چلانے اور قرضے کی حد بڑھانے کے بدلے براک اوباما اور ان کے ڈیموکریٹ ساتھیوں سےرعایتیں مانگی ہیں۔

Image caption جان بینر نے کہا کہ یہ ’نرم گفتگو تھی‘ جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا

ریپبلکن کا بڑا مطالبہ دو ہزار دس میں ڈیموکریٹس کی طرف سے پاس کیے گئے صحت سے متعلق’اوباما کیئر‘ نامی قانون کو ختم کرنا، اسے ملتوی یا اس کے لیے رقم کی فراہمی روکنا ہے۔

اس سے پہلے امریکی صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ ملک میں وفاقی محکموں کی بندش یا ’شٹ ڈاؤن‘ کے خاتمے کے لیے حزب اختلاف کی جانب سے ہیلتھ کیئر کے قانون میں تبدیلی کی شرط تسلیم نہیں کی جا سکتی۔

صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ وہ ایسی کوئی روایت نہیں قائم کرنا چاہتے جہاں ایک پارٹی کا ’شدت پسند گروپ‘ حکومت کو یرغمال بنائے۔

انھوں نے مذاکرات سے پہلے سی این بی سی کو بتایا کہ حکومت کو دوبارہ کام شروع کرنے کے لیے کانگریس میں مالیاتی بل پاس ہونے کے بعد وہ بجٹ کے بارے میں ’کسی بھی بات پر مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

ہیلتھ کیئر سے متعلق اس قانون کے زیادہ تر حصوں پر منگل کو عمل شروع ہو گیا تھا۔اس قانون کی توثیق ملک کے سپریم کورٹ نے بھی کی تھی اور یہ 2012 کے صدارتی انتخاب میں ایک اہم موضوع رہا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جان بوہنر ایوانِ نمائندگان کو ہیلتھ کیئر قانون میں تبدیلی کے مالیاتی بل پر ووٹنگ کی اجازت دے کر وفاقی محکموں کی بندش کو ختم کر سکتے تھے کیونکہ ڈیموکریٹس اور اعتدال پسند ریپبلکن اس بل کو پاس کر لیتے۔

امریکہ میں وفاقی محکموں کی بندش کے نتیجے میں سات لاکھ سے زیادہ افراد کو بغیر تنخواہ رخصت پر جانا پڑا اور اس بات کی بھی ضمانت نہیں کہ جب یہ ڈیڈ لاک ختم ہوتا ہے تو انہیں اس عرصے کی تنخواہ ملے گی یا نہیں۔

کوئینی پیک یونیورسٹی کے جائزے کے مطابق تقریباً 72 فیصد افراد ہیلتھ کیئر بل کی وجہ سے ہونے والے اس ’شٹ ڈاؤن‘ کے حق میں نہیں۔

یہ گذشتہ 17 برس میں پہلا موقع ہے کہ امریکی حکومت کو ’شٹ ڈاؤن‘ کا سامنا کرنا پڑا ہے اور واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار مارک مارڈل کے مطابق امریکی سیاست میں موجود خلیج اتنی بڑھ گئی ہے کہ حکومت خود کام نہیں کر پا رہی۔

اسی بارے میں