امریکی کانگریس کی عمارت کے باہر فائرنگ، خاتون ہلاک

Image caption عمارت کو آدھے گھنٹے کے مکمل طور پر بند کردیا گیا تھا

امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں پولیس نے تعاقب کے بعد ایک خاتون کی ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

یہ خاتون وائٹ ہاؤس کے سکیورٹی حصار سے گاڑی ٹکرانے کے بعد امریکی کانگریس کی عمارت کی جانب گئی تھیں جہاں انہیں گولی مار دی گئی۔

پولیس اور ایف بی آئی نے تحقیقات کے سلسلے میں ریاست کنیٹیکٹ کے شہر سٹیمفرڈ میں ایک مکان پر بھی چھاپہ مارا ہے جس کے بارے میں خیال ہے کہ یہ ہلاک ہونے والی خاتون کا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ جمعرات کو امریکی کانگریس کی عمارت کے باہر پیش آیا۔ تاہم ان کے مطابق تعاقب اور فائرنگ کا یہ واقعہ نہ تو دہشت گردی کی واردات اور نہ ہی کوئی حادثہ تھا۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت شروع ہوا جب ایک خاتون نے اپنی گاڑی امریکی صدر کے دفتر وائٹ ہاؤس کے قریب سکیورٹی گیٹ سے ٹکرائی اور پھر کانگریس کی عمارت کی جانب روانہ ہو گئیں۔

رپورٹس کے مطابق پولیس اہلکاروں کی جانب سےگاڑی کا تعاقب سینیٹ کی عمارت تک جاری رہا جہاں امریکی سیکرٹ سروس کی ایک گاڑی سے ٹکرانے کے بعد مذکورہ خاتون کی گاڑی رک گئی۔

واشنگٹن کی میٹروپولیٹن پولیس کی سربراہ کیتھی لینیئر کا کہنا تھا کہ امریکی کانگریس کی پولیس اور سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے خاتون کی گاڑی پر دو مرتبہ فائرنگ کی۔

ان کے مطابق ’اس دوران گولی مشتبہ خاتون کو لگی اور وہ ہلاک ہوگئیں۔‘

اس واقعے میں دو اہلکار زخمی بھی ہوئے اور واشنگٹن پولیس کے مطابق خاتون کی گاڑی سے ایک سالہ بچی کو نکال کر ہسپتال بھی منتقل کیا گیا ہے۔

پولیس حکام نے ہلاک ہونے والی خاتون کے بارے میں بھی تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں اور یہ بھی نہیں بتایا کہ آیا وہ مسلح تھیں یا نہیں۔

تاہم کیتھی لینیئر نے یہ ضرور کہا کہ ’مجھے یقین ہے کہ یہ کوئی حادثہ نہیں تھا‘۔ ان کے مطابق اس خاتون نے اس کئی رکاوٹیں توڑنے کی کوشش کی۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق فائرنگ کے وقت کچھ سینیٹرز باہر تھے اور انہوں نے ایک پولیس کی گاڑی کو ایک دوسری گاڑی کا تعاقب کرتے دیکھا جو سینیٹ کی عمارت کے سامنے ختم ہوا۔

سینیٹر باب کیسی نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا ’میں نے تین گولیوں کی آوازیں سنیں اور ہمیں پھر کہا گیا کہ زمین پر لیٹ جائیں۔‘

اس سے قبل پولیس نے سینیٹ کی عمارت کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور عمارت میں موجود سینیٹرز، صحافیوں، سٹاف اور سیاحوں کو کہا گیا کہ وہ عمارت کے اندر اور بیرونی دروازوں اور کھڑکیوں سے دور رہیں۔

اس عمارت کو آدھے گھنٹے کے لیے مکمل طور پر بند بھی کیا گیا۔ حکام کے مطابق اس واقعے کے بارے صدر براک اوباما کو بریفنگ بھی دی گئی۔

خیال رہے کہ دو ہفتے قبل واشنگٹن میں ہی امریکی بحریہ کے ایک اڈے میں فائرنگ کے واقعے میں 12 افراد مارے گئے تھے۔

اسی بارے میں