وسطی ایشیا کی ریاستیں خوف کا شکار

Image caption پاکستان میں موجود کئی شدت پسند گروپ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل میں دلچسپی رکھتےہیں

افغانستان سے امریکی فوجوں کےانخلا کا وقت قریب آنے کے ساتھ ہی وسطیٰ ایشیا کی مسلمان ریاستوں کے لیے مذہبی انتہا پسندی کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔

کالم نگار احمد رشید کے تجزیے کے مطابق وسطی ایشیا کی پانچ ریاستیں امریکی فوجوں کے انخلا سے خطے پر پڑنے والے اثرات سے خوف میں مبتلہ ہیں۔

القائدہ سے منسلک گروہوں اور اسلامی موومنٹ آف ازبکستان کی طرف سے گیارہ ستمبر دو ہزار ایک سے پہلے بھی دہشت گردی کے حملوں کا سامنا کرنے والی ان ریاستوں کو خدشہ ہے کہ افغانستان اور پاکستان سے شدت پسندوں کی جارحیت اور پیش قدمی کا خطرہ سنہ دو ہزار چودہ کے بعد کئی گناہ بڑھ جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق اسلامک موومنٹ آف ازبکستان نے وسطی ایشیا کے ساتھ ملنے والی افغان سرحد کے پاس اپنے قدم جمانے شروع کر دیے ہیں۔

گزشتہ ماہ ستمبر کی ستائیس تاریخ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میص خطاب کرتے ہوئے قزاقستان اور ازبکستان کے وزراء خارجہ نے خبردار کیا تھا کہ سنہ دو ہزار چودہ کے بعد افغانستان سے پیدا ہونے والے منشیات، شدت پسندی اور دہشت گردی کے خطرات سے پورے خطے کا استحکام اور عالمی امن برباد ہو سکتا ہے۔

اپنی اپنی جگہ دونوں ملکوں کے وزراء خارجہ نے مغربی طاقوں کو فوجوں کے انخلاء سے پہلے افغانستان میں سیاسی حل تلاش کرنے میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

وسطی ایشیا کی پانچ ریاستیں ازبکستان، قزاقستان، تاجکستان، کرزغستان اور ترکمانستان کو نیٹو اور امریکیوں پر اعتماد نہیں ہے کہ وہ سنہ دو ہزار چودہ کے بعد خطے میں استحکام برقرار رکھ سکیں گے کیونکہ وہ اجتماعی طور پر افغانستان میں پرامن سیاسی حل اور افغانستان کے ارگرد بسنے والوں ملکوں میں کوئی مفاہمت قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

مزید براں وسطی ایشیا کی ان پانچ ریاستوں میں باہمی اعتماد کا بھی فقدان ہے اور وہ سنہ دو ہزار چودہ کے بعد خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے کسی متفقہ منصوبہ پر پہنچنے سے قاصر ہیں۔

ان میں کچھ ریاستوں نے اب روس کی طرف دیکھنا شروع کر دیا ہے۔

اکتوبر کی پہلی تاریخ کو تاجکستان کی پارلیمان نے ایک معاہدے کی توثیق کی ہے جس کے تحت تین عشروں سے ملک میں موجود روس کے فوجی اڈوں کی معیاد میں توسیع کی گئی ہے۔

Image caption وسطی ایشیا کو لاحق خطرے کا اظہار اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کیا گیا

افغانستان کی سرحد کے قریب واقع تاجکستان کے تین مختلف شہروں میں روس کے چھ ہزار سے زیادہ فوجی موجود ہیں۔

پوست کی تجارت

وسطی ایشیا کی تین ریاستیں ازبکستان، تاجکستان اور ترکمانستان کوخاص طور پر خطرے کا سامنا ہے کیونکہ ان کی شمالی افغانستان کے ساتھ بارہ سو میل طویل سرحد ہے۔

تاجکستان خطے میں سب سے کمزور ملک ہے جس کی فوج غیر تربیت یافتہ ہے اور اس کو اقتصادی بحران کا بھی سامنا ہے۔ اس کا بدعنوان ریاستی ادارے بھی پوست کی سمگلنگ میں ملوث ہیں۔

کئی برس سے ازبکستان کی اسلامی تحریک اور دیگر شدت پسند گروہ شمالی افغانستان کے شمالی شہر قندوز اور سرحدی قصبے امام صاحب میں اپنے اڈے بنانے کی کوشش میں ہیں۔

Image caption تین ریاستوں ازبکستان، تاجکستان اور ترکمانستان کوخاص طور پر خطرے کا سامنا ہے

ازبکستان کی اسلامی تحریک اور علاقے میں تعینات امریکی اور جرمن فوجیوں کے درمیان چھڑپیں ہوتی رہی ہیں لیکن اب یہاں سے غیر ملکی فوجیں نکل گئی ہیں اور خطے کا نظام افغان فوج نے سنبھال لیا ہے۔

وہابی فرقہ واریت

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق افغانستان کے شمالی مغربی صوبے بدخشاں سے زیادہ سنگیں خطرہ جنم لے رہا ہے۔

پانچ سو کے قریب شدت پسندوں نے افغان سکیورٹی فورسز کو صوبے کے کئی اضلاع سے باہر دھکیل دیا ہے اور اب وہ افغان سرحد کے قریب ایک اہم ضلع اشکاشم کا کنٹرول حاصل کر رہے ہیں۔ تاجکستان اور اس کے درمیان پنچ دریا بہتا ہے جو سردیوں میں جم جاتا ہے اور جس کے آر پار جانا اور بھی آسان ہو جاتا ہے۔

ازبکستان کی اسلامی تحریک کا مرکز وردوج ضلع ہے جو بدخشان کے وسط میں واقع ہے اور وہاں کی مقامی آبادی کو زبردستی وہابی عقائد اختیار کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

بدخشان کا پہاڑی علاقہ ہندوکش اور پامیر کے پہاڑی سلسلوں کے درمیان شدت پسندوں کے لیے بہت موزوں ہے۔

وہ اس وسیع خطے پر تسلط قائم کرنا چاہتے ہیں جہاں جنوبی تاجکستان، شمال مغربی پاکستان اور مشرقی افغانستان ملتے ہیں۔

شمالی مشرق میں واخان کی پٹی ہے جس کی سرحد چین سے ملتی ہے جہاں ازبکستان کا اسلامی تحریک چین کی مسلمان اوغر آبادی سے لوگوں کو بھرتی کر رہی ہے۔

اس علاقے کا زیادہ تر حصہ فوج کے پہنچ سے دور ہے اور خاص طور افغان فوج کی پہنچ سے کیونکہ ان کی فضائی صلاحیت نہ ہونے کے برابر ہے۔

Image caption ازبکستان میں روسی اڈوں کی معیاد میں توثیق کر دی گئی ہے

پاکستان اس تنظیم کے لیے رسد حاصل کرنے کا اہم ذریعہ ہے اور پاکستان کے شدت پسند گروپ اس کو مدد فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان خدمات کا معاوضہ منشیات کی سمگلنگ سے حاصل ہونے والے رقوم سے ادا کیا جاتا ہے۔

القاعدہ کا تسلط

پاکستان میں موجود کئی شدت پسند گروپ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل میں دلچسپی رکھتےہیں۔

ان میں ازبکستان کی اسلامی تحریک، افغان طالبان، پنجابی طالبان، لشکر طیبہ، اسلامی جہاد نامی تنظیمیں شامل ہیں۔

خطرہ اس بات کا ہے کہ شدت پسند کہیں اگلے سال سے پہلے ہی پورے شمال مشرقی افغانستان پر اپنا تسلط نہ جما لیں جن میں کنڑ، نورستان اور بدخشاں کے صوبے شامل ہیں اور جہاں سے وہ کابل حکومت کے لیے مشکلات کا باعث بن سکیں۔۔

ازبکستان کی اسلامی تحریک نے جمعہ نغامی کی قیادت میں گیارہ ستمبر سنہ دو ہزار ایک سے پہلے وسطی ایشیا کی تین ریاستوں میں دہشت گرد حملے کیے تھے لیکن بعد میں وہ پسپا ہو کر افغانستان آ گئی جہاں یہ تنظیم القائدہ اور طالبان سے مل گئی۔

نغمانی کی امریکی فوج سے لڑتے ہوئے سنہ دو ہزار ایک میں ہلاکت کے بعد ازبکستان کی اسلامی تحریک کے بچے کچے لوگ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں آ گئے جہاں انھوں نے اپنے آپ کو دوبارہ منظم کرنا شروع کیا۔

سنہ دو ہزار پانچ میں ازبک حکومت کی طرف سے فرغانہ کی وادی میں ایک ہزار لوگوں کے قتل عام کے بعد اس تنظیم کو بہت سے لوگ بھرتی کرنے کو ملے۔

اس وقت سے یہ تنظیم باقی شدت پسند گروپوں اور القائدہ کے ساتھ مل کر پاکستان ، افغانستان اور غیر ملکی فوجوں پر حملوں میں مصروف ہے۔

تیل اور گیس کے ذخائر

اس تحریک میں وسطی ایشیا کے ملکوں کے علاوہ چینی، پاکستانی، چیچن اور خطے کے دیگر ملکوں کے لوگ بھی شامل ہیں۔

پہلی مرتبہ یہ اطلاعات بھی ملی ہیں کہ ترکمان اور قازق بھی اس تنظیم کے ساتھ بدخشاں کے صوبے میں سرگرم ہیں۔ روایتی طور پر ان دونوں قومیتوں کے لوگ شدت پسندی کی حمایت نہیں کرتے تھے۔

اپنی تیل اور گیس کی دولت کے باوجود وسطی ایشیا دنیا کے سب سے زیادہ نظر انداز کیے جانے والے خطوں میں شامل رہا ہے۔ یہاں کی ریاستیں غیر ملکیوں کو ہمشیہ شک کی نظر سے دیکھتی ہیں۔ امریکیوں کو پسند نہیں کیا جاتا، روسیوں پر اعتماد نہیں کیا جاتا اور چینیوں کے اثر و رسوخ کو خوف کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

لیکن اب اس خطے کو شدت پسندی کا شدید خطرہ ہے جس کے کچھ حصے تیل اور گیس کی دولت سے مال مال ہیں۔

اسی بارے میں