مصر نے دو کینیڈیئن شہریوں کو رہا کر دیا

Image caption طارق لوبانی (دائیں) اور جان گریسن کو اگست میں حراست میں لیا گیا تھا

کینیڈا کی حکومت نے کہا ہے کہ مصری حکام نے ان دو کینیڈیئن شہریوں کو رہا کر دیا ہے جنھیں بغیر فردِ جرم عائد کیے سات ہفتوں سے زیرِ حراست رکھا گیا تھا۔

ڈاکٹر طارق لوبانی اور فلم ساز جان گریسن پر الزام تھا کہ انھوں نے قاہرہ میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں حصہ لیا تھا۔

ڈاکٹر لوبانی کا اصرار ہے کہ وہ محض زخمی مظاہرین کی مدد کر رہے تھے، جب کہ گریسن تشدد کو فلما رہے تھے۔

وسطی قاہرہ میں مزید مظاہرے ہونے کی توقع ہے، اور معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں اور مخالفین نے کہا ہے کہ وہ سڑکوں پر احتجاج کریں گے۔

اب تک ان کینیڈیئن شہریوں کی رہائی کی تفصیلات موصول نہیں ہو سکیں۔

ڈاکٹر لوبانی کے بھائی محمد لوبانی نے کینیڈا کے اخبار ٹورنٹو سٹار کو بتایا کہ ان دونوں کو معلوم نہیں تھا کہ انھیں رہا کیا جا رہا ہے۔

محمد لوبانی نے کہا: ’وہ (حکام) ان کے کمرے تک گئے اور کہا، ’’ہمارے ساتھ آؤ۔‘‘ جب تک وہ پولیس سٹیشن تک نہیں پہنچے، اس وقت تک انھیں کچھ معلوم نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ وہ دونوں سخت حیران تھے۔‘

دونوں نے اپنی گرفتاری کے خلاف تین ہفتوں سے بھوک ہڑتال کر رکھی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ جیل میں سختی کی گئی۔

خبررساں ادارے اے ایف پی نے بتایا ہے کہ کینیڈا کے وزیرِ اعظم سٹیون ہارپر نے کہا کہ وہ ’مصر کی حکومت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔‘

انھوں نے ملیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’ہم مستقبل قریب میں کینیڈا کے ان دو شہریوں کی گھر واپسی کے منتظر ہیں۔‘

بی بی سی کے قاہرہ میں نامہ نگار کونٹن سمر وِل کہتے ہیں کہ تحریر سکوئر ایک بار پھر مصری بحران کا مرکزی نقطہ بننے والا ہے۔

توقع ہے 1973 میں عرب اسرائیل جنگ کی 40ویں برسی کے موقعے پر لاکھوں افراد جمع ہوں گے۔

اسی بارے میں