شامی تنازعے میں جرمنی ثالثی کر سکتا ہے: بشار الاسد

Image caption بشار الاسد نے ایک بار پھر تردید کی کہ سرکاری فوج نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں

شامی صدر بشار الاسد نے امکان ظاہر کیا ہے کہ جرمنی شام میں 30 ماہ سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

بشار الاسد نے جرمنی کے دیر شپیگل میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر مندوبین جرمنی سے آئیں تو انھیں خوشی ہو گی۔‘

تاہم انھوں نے ایک بار پھر تردید کی کہ سرکاری فوج نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں، اور انھوں نے اس کا الزام باغیوں پر عائد کیا۔

’کیمیائی ہتھیاروں کی ویڈیوز ڈھونگ ہیں‘

شامی کیمیائی ہتھیار تلف کرنے کی قرارداد منظور

’شامی ہتھیاروں کی تفصیلات موصول ہو گئیں‘

یہ انٹرویو پیر کو شائع ہو گا۔ اس میں بشار الاسد نے کہا کہ امریکی صدر براک اوباما کے پاس ’ذرا بھر ثبوت نہیں کہ شامی حکومت نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ اوباما کے پاس ’جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔‘

انٹرویو سے چند ہی روز پہلے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے والی ٹیم نے کہا تھا کہ حکام سے ملاقات کے بعد انھوں نے ’حوصلہ افزا پیش رفت‘ کی ہے۔

کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کی تنظیم او پی سی ڈبلیو کے ماہرین نے کہا کہ شامی حکومت نے گذشتہ ماہ انھیں جو دستاویزات دی تھیں وہ حوصلہ افزا لگتی ہیں۔

تاہم ٹیم نے کہا کہ انھیں تکنیکی خاکوں کے جائزے کی ضرورت پڑے گی اور ’ابھی کئی سوالات کے جوابات ملنا باقی ہیں۔‘

کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرہ کرنے کی جگہوں کے معائنے اور ہتھیاروں کی تلفی کا کام اگلے ہفتے سے شروع ہو گا۔

گذشتہ ماہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اس بات پر متفق ہو گئی تھی کہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کیا جائے۔ یہ قرارداد اس سے قبل امریکہ اور روس کے درمیان سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں پیش کی گئی تھی۔

21 اگست کو شامی دارالحکومت دمشق کی نواحی بستی غوطہ میں کیمیائی حملے کے بعد امریکہ نے شام پر حملہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ امریکہ نے کہا تھا کہ یہ حملہ شامی حکومت نے کیا ہے، جب کہ روس نے اس کا الزام باغیوں پر لگایا تھا۔

اس حملے میں 1400 سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔

اسی بارے میں