امریکہ: 100 ڈالر کا نیا ’ہائی ٹیک‘ نوٹ جاری

امریکہ میں حکام نے 100 ڈالر کا نیا کرنسی نوٹ جاری کیا ہے جس میں کئی نئے ’سکیورٹی فیچرز‘ شامل ہیں۔

امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے جاری کیے جانے والے اس ’ہائی ٹیک‘ نوٹ میں تھری ڈی سکیورٹی ربن کے علاوہ ایسا لوگو بھی ہے جس کی نقل بنانا حکام کے مطابق انتہائی مشکل ہوگی۔

اس نوٹ میں سکیورٹی کے ان نئے اقدامات کے علاوہ روایتی واٹر مارک اور وہ دھاگہ بھی موجود ہے جو الٹراوائلٹ روشنی میں گلابی رنگ میں چمکتا ہے۔

یہ نوٹ 2010 میں ڈیزائن کیا گیا تھا لیکن اس کے اجرا میں تاخیر کی وجہ ’تیاری میں درپیش غیرمتوقع مشکلات‘ کو قرار دیا گیا ہے۔

تھری ڈی سکیورٹی ربن اس نوٹ پر چھاپا نہیں گیا بلکہ اسے نوٹ میں بُن دیا گیا ہے۔ اس ربن پر 100 ڈالر کا ہندسہ درج ہے جو نوٹ کو ہلانے پر گھنٹی کی شکل اختیار کر کے اوپر نیچے یا دائیں اور بائیں حرکت کرتا ہے۔

اس کے علاوہ نوٹ پر دائیں جانب نیچے کی طرف موجود 100 کا ہندسہ ہلانے پر سنہرے رنگ سے سبز رنگ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

اہم دستاویزات اور کرنسی نوٹوں میں استعمال ہونے والا کاغذ بنانے والی کمپنی فورٹریس پیپرز کے چیف ایگزیکٹو چیڈوک ویلسنوف نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سکیورٹی میں اضافے کے ضمن میں یہ ایک قدم نہیں بلکہ بہت بڑی چھلانگ ہے۔‘

اس نوٹ پر امریکہ کے بانیان میں شامل سائنسدان اور مفکر بینجمن فرینکلن کی تصویر ہے اور اس کی چھپائی ابھری ہوئی ہے جو اسے دیگر نوٹوں سے ممتاز کرتی ہے۔

100 ڈالر کے اس نئے نوٹ پر تحقیق اور اسے بنانے میں ایک دہائی سے زیادہ عرصہ لگا ہے اور یہ امریکی سیکرٹ سروس اور محکمۂ خزانہ کا مشترکہ منصوبہ تھا۔

دنیا میں جدید سافٹ ویئرز اور چھپائی اور نقل کرنے کی بہترین مشینری کی وجہ سے جعلی کرنسی چھاپنا آسان ہوگیا ہے اور عام دکانداروں کے لیے اس کرنسی کی شناخت کرنا بہت مشکل ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ملک میں 100 ڈالر کے سب سے زیادہ جعلی نوٹ موجود ہیں۔ امریکی سیکرٹ سروس کے اندازوں کے مطابق 2012 میں تقریباً آٹھ کروڑ ڈالر مالیت کے جعلی نوٹ امریکہ میں زیرِ گردش تھے جب کہ بیرونِ ملک یہ تعداد ایک کروز 40 لاکھ ڈالر تھی۔

اسی بارے میں