’مذہبی انتہاپسندی کی ترویج پر 150 گرفتار‘

Image caption سنکیانگ میں پرتشدد جھڑپوں میں 100 افراد مارے جا چکے ہیں

چین کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ ملک کے مغربی صوبے سنکیانگ میں ڈیڑھ سو سے زیادہ افراد کو انٹرنیٹ پر مذہبی انتہاپسندی کی ترویج دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

چینی اخبار سنکیانگ ڈیلی کے مطابق یہ افراد رواں برس جون کے آخر سے اگست کے دوران گرفتار کیے گئے تھے۔

بیجنگ میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق یہ گرفتاریاں چین کے مغربی سرحدی علاقے میں سکیورٹی کریک ڈاؤن کا حصہ ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ رواں برس سنکیانگ میں پرتشدد جھڑپوں میں 100 افراد مارے جا چکے ہیں۔

سنکیانگ میں چین کی مسلم اویغور اقلیت آباد ہے جو چینی حکومت پر ایک عرصے سے ثقافتی اور مذہبی استحصال کے الزامات لگاتی رہی ہے۔

چین ان الزامات سے انکار کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اویغور آبادی کو آزادیاں دی گئی ہیں۔

خیال رہے کہ چین کے صدر شی جنگ پنگ نے ملک میں علیحدگی پسندوں، دہشت گردوں اور مذہبی انتہاپسندوں کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

تاہم حقوقِ انسانی کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں چینی حکومت پر دہشت گردی کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے اور اسے سخت سکیورٹی پالیسی کی توحیج بنانے کا الزام لگاتی ہیں۔

اسی بارے میں