امریکہ سے انس اللبّی کو لیبیا کے حوالے کرنے کا مطالبہ

Image caption انس اللبّی پر 1998 میں کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر حملے کرنے کا الزام ہے

لیبیا کی قومی کانگریس نے امریکی حراست میں موجود القاعدہ کے رہنما انس اللبّی کو لیبیا کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انس اللبّی کو سنیچر کو طرابلس میں امریکی کمانڈوز نے کارروائی کر کے گرفتار کیا تھا۔

لیبیا کے وزیرِ قانون صالح المغرانی کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن اغوا کے مترادف ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لیبیا نے درخواست کی ہے کہ ریڈ کراس کو اللبّی کے معائنے اور ان کی اہلیہ کو فون پر ان سے رابطے کی اجازت دی جائے۔

امریکہ کے مطابق االبّی کو ’قانونی طریقے سے لیبیا سے باہر ایک محفوظ جگہ پر زیرِ حراست رکھا گیا ہے۔‘

لیبیا کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ انس اللبّی کی گرفتاری کے لیے کیے گئے آپریشن سے لاعلم تھی۔تاہم ایک امریکی عہدے دار نے سی این این کو بتایا تھا کہ یہ کارروائی لیبیا کی حکومت کے علم میں تھی۔

چند روز قبل لیبیا کے وزیراعظم علی زیدان نے اپنی سرزمین پر امریکی کمانڈوز کی کارروائی پر امریکہ سے وضاحت بھی طلب کی تھی

انہوں نے ایک بیان میں اس بات پر زور دیا تھا کہ ان کا ملک کسی بھی لیبیائی شہری پر لیبیا میں ہی مقدمہ چلانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔تاہم ساتھ ہی ساتھ علی زیدان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ امریکہ سے اپنے اچھے تعلقات برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ طرابلس سے حراست میں لیے جانے والے 49 سالہ اللبّی پر 1998 میں کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر بم حملے کرنے کا الزام ہے اور ایک امریکی عدالت نے ان پر فردِ جرم عائد کر رکھی ہے۔

اللبّی کا اصل نام نزیہ عبدالحمید الرقیعی ہے، اور ان کا نام امریکی ایف بی آئی کی سب سے زیادہ مطلوب افراد کی فہرست پر ایک عشرے سے موجود ہے۔ ان کے سر پر 50 لاکھ ڈالر کا انعام مقرر تھا۔

اسی بارے میں