سعودی حکومت کا غیر ملکی کارکنوں کو انتباہ

Image caption سعودی عرب کی ایک تہائی آبادی غیر ملکی کارکنوں پر مشتمل ہے

سعودی عرب حکومت نے ملک میں موجود لاکھوں غیر ملکی کارکنوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایک ماہ کے اندر اپنی ویزا دستاویزات درست کر لیں یا ملک سے نکل جانے کے لیے تیار ہو جائیں۔

برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق سعودی ریاست ایک عرصہ تک ویزا کی چھوٹی موٹی بے قاعدگیوں سے صرفِ نظر کرتی رہی ہے تاکہ ملک میں سستے مزدوروں کی کمی واقع نہ ہو۔

یمن، مصر، لبنان، ایتھیوپیا، انڈیا، پاکستان، سری لنکا، بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور فلپائن سے تعلق رکھنے والے محنت کش لوگ سعودی عرب کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں اور اپنے ملکوں کے لیے بھی زرمبادلہ کمانے کا اہم ذریعہ رہے ہیں۔

سعودی عرب میں اصلاحات کے عمل کے تحت گذشتہ دو برس سے حکومت کی کوشش ہے کہ سعودی شہریوں میں بے روزگاری کی شرح کم کی جائے جو اب بھی 12 فیصد کے قریب ہے۔

اس میں وہ لوگ شامل نہیں ہیں جو کوئی کام نہیں کرتے اور روزگار ان کی ضرورت بھی نہیں ہے، ان کی شرح کہیں زیادہ ہے۔

سعودی عرب کے اعلیٰ حکام اکثر اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ دنیا کی اس تیل پیدا کرنے والی بڑی معیشت کے لیے مقامی لوگوں میں بے روز گاری کی شرح کم کرنا بہت بڑا چیلنج ہے۔

سعودی شہریوں کی اکثریت سرکار کی ملازمت میں ہے لیکن مرکزی بینک کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گذشتہ ایک دہائی میں معاشی اصلاحات سے پیدا ہونے والے مواقع کا فائدہ غیر ملکیوں کو ہوا ہے۔

اگر مقامی اور غیر ملکی کمپنیاں مقامی لوگوں کے لیے نوکریوں میں مختص کوٹے کی پابندی نہ کریں تو انھیں بھاری جرمانوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس کے علاوہ سعودی حکومت نے ہر کمپنی پر ایک غیر ملکی کو نوکری دینے پر 24 سو ریال کا ٹیکس لگا دیا ہے۔ اگر کوئی کمپنی کسی غیر ملکی کو نوکری دیتی ہے تو اسے 24 سو ریال کا اضافی ٹیکس دینا پڑتا ہے۔ یہ ٹیکس ہر سال اس وقت ادا کرنا پڑتا ہے جب اس غیر ملکی کے پرمٹ کے دوبارہ اجرا کا وقت آتا ہے۔

اس سال کے اوائل میں حکومت نے غیر ملکی کارکنوں کے خلاف ایک غیر معمولی مہم شروع کی تھی۔ چار نومبر کو سات ماہ کی مہلت کے خاتمے پر یہ مہم دوبارہ شروع کی جا رہی ہے جس میں مختلف کمپنیوں پر چھاپے مارے جائیں گے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق 53 لاکھ غیر ملکی کارکن اپنی دستاویزات درست کروا چکے ہیں، لیکن ان میں سے لاکھوں سعودی عرب چھوڑ کر جا چکے ہیں۔