قرض کی حد پر رپبلکنز کے مطالبات بھتہ خوری کے مترادف: اوباما

Image caption صدر اوباما نے منگل کو سپیکر جان بوہینر سے بھی بات کی لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی

امریکہ کے صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ وہ رپبلکن پارٹی سے بجٹ پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں لیکن اسے ملکی معیشت کے خلاف دھمکیوں سے دستبردار ہونا ہوگا۔

امریکی صدر کے بقول رپبلکنز کی جانب سے قرضوں کی حد میں اضافے اور حکومتی سرگرمیوں کی بحالی کے بدلے میں پالیسی رعایت کا مطالبہ ’بھتہ خوری‘ کے مترادف ہے۔

شٹ ڈاؤن کی وجہ سے اوباما کا دورۂ ایشیا منسوخ

امریکہ میں وفاقی حکومت کی سرگرمیاں گذشتہ پیر اور منگل کی درمیانی شب اس وقت جزوی طور پر معطل ہو گئی تھیں جب حزبِ اختلاف کی اکثریت والے ایوانِ نمائندگان سے آئندہ مالی سال کا بجٹ منظور نہ ہونے کے بعد وائٹ ہاؤس نے کچھ وفاقی محکموں کو کام بند کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

براک اوباما نے ملک میں بجٹ کی عدم منظوری کی وجہ سے وفاقی محکموں کی بندش یا ’شٹ ڈاؤن‘ کی وجہ سے ایشیائی ممالک کا دورہ بھی منسوخ کر دیا تھا۔

صدر اوباما نے منگل کو وائٹ ہاؤس میں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ رپبلکن امریکی معیشت اور ملک کی عزت کو خطرے سے دوچار کر رہے ہیں۔ دوسری جانب رپبلکن جماعت کے رہنماؤں نے صدر اوباما پر زور دیا ہے کہ وہ بحران ختم کرنے لیے بات چیت شروع کریں۔

ایوان نمائندگان میں رپبلکن پارٹی کے سپیکر جان بینر اور صدر اوباما کے درمیان ٹیلی فون پر بات ہوئی ہے تاہم دونوں رہنماؤں کے مابین کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے۔

بات چیت کے بعد جان بینر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ’صدر اوباما کے بات چیت سے انکار پر مایوسی‘ ہوئی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صدر کا یہ موقف کہ وہ اس وقت تک رپبلکنز سے بات نہیں کریں گے جب تک وہ ’ہتھیار نہیں ڈال دیتے‘، زیادہ دیر تک برقرار رہنے والا نہیں اور قرض کی حد کے معاملے پر بات چیت میں یہ معاملہ ضرور زیرِ بحث آنا چاہیے کہ قوم کیسے اپنے ذرائع سے کہیں زیادہ خرچ کر رہی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ رپبلکنز صحتِ عامہ کے لیے کی جانی والی اصلاحات میں کمی چاہتے ہیں اور اس معاملے پر فوری مذاکرات شروع ہونے چاہییں۔

Image caption امریکہ میں ’شٹ ڈاؤن‘ کی وجہ سے آٹھ لاکھ کارکنوں کو بغیر تنخواہ رخصت پر جانا پڑا ہے

صدر اوباما کے بقول ان کی جان بینر سے بات ہوئی اور’رپبلکنز سے ہر چیز پر بات کر کے خوشی ہوئی ہے،‘ تاہم شٹ ڈاؤن اور قرضوں کی حد پر کسی بھی بات چیت میں شٹ ڈاؤن اور معاشی ابتری کی دھمکی شامل نہیں ہونی چاہیے۔

صدر اوباما کے بقول ’ہم اپنی جمہوریت میں بھتہ خوری کو معمول نہیں بنا سکتے اور جمہوریت اس طریقے سے کام نہیں کر سکتی اور یہ صرف میرے لیے نہیں بلکہ میرے بعد آنے والوں کے لیے بھی ہے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو۔‘

’جب کبھی بھی ہم ایسا ہوتا ہے تو اس سے دنیا بھر میں ہماری ساکھ متاثر ہوتی ہے اور ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ ہم متحد ہو کر کام نہیں کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا اقدام ہے جس کا ہمیں خیرمقدم کرنا چاہیے اور ایک عظیم قوم کو ہر ماہ حکومتی امور چلانے اور معاشی آفات سے بچنے کے لیے چند غیر ذمہ دار اراکین پارلیمان سے اجازت نہیں لینی چاہیے‘۔

خیال رہے کہ امریکہ میں ’شٹ ڈاؤن‘ کی وجہ سے آٹھ لاکھ کارکنوں کو بغیر تنخواہ رخصت پر جانا پڑا ہے۔

دوسری جانب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف نے آئندہ سال کے لیے عالمی معیشت کی شرحِ نمو کے ہدف میں کمی کا اعلان کیا ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق رواں سال عالمی اقتصادی ترقی کی شرح 2.9 فیصد متوقع ہے جب کہ آئندہ سال عالمی شرح نمو 3.9 فیصد رہنے کی توقع ہے۔

اسی بارے میں