لیبیا: وزیراعظم کو حراست میں لینے کی مذمت

Image caption وزیرِ اعظم علی زیدان کو جمعرات کو اس ہوٹل سے حراست میں لیاگیا جہاں وہ مقیم تھے

عالمی رہنماؤں نے لیبیا کے وزیراعظم کو حراست میں رکھنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ملک میں جمہوری طریقے سے اقتدار کی منتقلی کے عمل کی حمایت کی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے لیبیا میں حکومت کی حامی ملیشیا کی جانب سے وزیراعظم کو حراست میں رکھنے کو’غنڈہ گردی‘ قرار دیا ہے جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے لیبیا کے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ قانون کا احترام کریں۔

اس سے پہلے لیبیا کے وزیرِاعظم علی زیدان کو حکومت کی حامی ملیشیا نے کئی گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا ہے۔جس ملیشیا کے ارکان نے انہیں حراست میں لیا تھا وہ معمر قذافی کی معزولی کے بعد قائم لیبیا کی حکومت کی حامی رہی ہے۔

لیبیا: وزیر اعظم کے مشیر اغوا

مسلح افراد کا وزارت خارجہ کی عمارت کا محاصرہ

امریکی وزیر خارجہ کے بقول’ لیبیا کے شہریوں نے سال دو ہزار گیارہ میں انقلاب کے دوران اپنی زندگیوں کو اس لیے خطرے میں نہیں ڈالا تھا کہ وہ غنڈہ گردی کو برداشت کریں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ایک نئے لیبیا میں اس قسم کے تشدد کی کوئی گنجائش نہیں ہے‘۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ لیبیا سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال سے دوچار ہے اور تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

پڑھ کر سنائے جانے والے اس بیان کے مطابق’سیکرٹری جنرل بان کی مون نے لیبیا کی تمام جماعتوں اور شہریوں سے کہا ہے کہ وہ قومی ترجیحات کے گرد اتفاق رائے قائم کریں اور ایک مستحکم اور مضبوط ملک کی تعمیر کے لیے کام کریں جہاں قانون کی حکمرانی اور حقوقِ انسانی کو تحفظ حاصل ہو‘۔

اس کے علاوہ فرانس اور برطانیہ نے وزیراعظم کی حمایت کرتے ہوئے اس واقعے کی مذمت کی ہے۔

لیبیا کے وزیرِاعظم علی زیدان کو حکومت کی حامی ملیشیا نے کئی گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا ہے۔

انہیں جمعرات کو اس ہوٹل سے گرفتار کیا گیا جہاں وہ مقیم تھے۔

جس ملیشیا کے ارکان نے انہیں حراست میں لیا تھا وہ معمر قذافی کی معزولی کے بعد قائم لیبیا کی حکومت کی حامی رہی ہے۔

اس سے قبل گروہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے استغاثہ کی جانب سے وارنٹ کے اجرا کے بعد وزیرِاعظم کو گرفتار کیا ہے تاہم حکومت نے اس کی تردید کی ہے۔

وزیرِاعظم علی زیدان کو وزراتِ داخلہ میں رکھا گیا اور وہاں کے اہلکار کے مطابق ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا گیا۔

لیبیا میں سنیچر اور امریکی کمانڈوز کی کارروائی میں القاعدہ کے رہنما انس اللبی کی گرفتاری کے بعد اشتعال پایا جاتا ہے۔

لیبیا کی حکومت کی ویب سائٹ پر کہا گیا ہے کہ مسلح افراد نے انہیں دارالحکومت طرابلس کے ایک ہوٹل سے اغوا کیا گیا جہاں وہ مقیم تھے۔ ہوٹل میں موجود ایک خاتون کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ واقعے میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔

لیبیا کے وزیرِاعظم علی زیدان نے منگل کو لیبیا میں عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے مغربی ممالک سے مدد طلب کی تھی۔

بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ لیبیا کو ہتھیاروں کے اڈے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

لیبیا کے وزیرے اعظم نے نیوز نائٹ پروگرام میں کہا تھا کہ ان کا ملک پورے خطے میں ہتھیار برآمد کرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔

معمر قذافی کے اقتدار کا تختہ الٹے کے بعد دو سال سے لیبیا کی حکومت ان مخالف قبائلی ملیشیا اور اسلامی عسکریت پسندوں کو قابو کرنے میں مشکلات کا شکار ہے جو ملک کے مختلف حصوں پر اختیار سنبھالے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں