مڈغاسکر: طاعون کے پھیلاؤ کے بارے میں ماہرین کی تنبیہ

Image caption مدغاسکر میں گذشتہ سال طاعون کے 256 کیسز سامنے آئے تھے

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر مڈغاسکر میں کالے طاعون پر قابو نہیں پایا گیا تو یہ وبا کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

بین الاقوام فلاحی ادارے ریڈ کراس اور پیسٹر انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ خطرہ قیدیوں کو ہے جو گندی اور پرہجوم جیلوں میں قید ہیں۔

اکتوبر میں طاعون کے مریضوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے کیونکہ گرم مرطوب موسم میں پسو زیادہ ہوتے ہیں جو یہ بیماری چوہوں اور دوسرے جانوروں سے انسانوں کو منتقل کرتے ہیں۔

مڈغاسکر میں گذشتہ سال طاعون کے 256 کیسز سامنے آئے تھے اور اس مرض سے 60 افراد ہلاک ہوئے تھے، یہ تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

قرونِ وسطیٰ میں کالے طاعون کی وجہ سے یورپ میں ڈھائی کروڑ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

جنیوا میں قائم آئی سی آر سی اور پیسٹر انسٹی ٹیوٹ فروری 2012 سے مدغاسکر کے مقامی صحت عامہ کے گروپوں کے ساتھ جیلوں کی صفائی ستھرائی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے مہم چلا رہے ہیں۔

پیسٹر انسٹی ٹیوٹ کے کرسٹوفی روجیئر نے کہا کہ ’اگر طاعون جیل میں آ جائے تو پورے قصبے میں اس کا جوہری دھماکہ سا ہو جاتا ہے۔ جیل کی دیواریں طاعون کو باہر نکلنے اور قصبے میں پھیلنے سے کبھی نہیں روکتیں۔‘

آئی سی آر سی کا کہنا ہے کہ ملک کے دارالحکومت اینٹانانیریو کی مرکزی جیل میں تین ہزار قیدی چوہوں کی ایک بڑی آبادی کے ساتھ رہ رہے ہیں جو بیمار پسوؤں کو خوراک، بستروں اور کپڑوں کے ذریعے پھیلاتے ہیں۔

آئی سی آر سی کے ایواریسٹو اولیرا نے کہا کہ اس سے نہ صرف قیدی اور جیل کا عملہ متاثر ہوتا ہے بلکہ اُن سے ملنے لوگ بھی متاثر ہوتے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جیل میں لوگوں اور کیڑے مکوڑوں کا آنا جانا ہوتا ہے۔ سب سے پہلے تو وہاں کے عملے کو خطرہ ہے جو دن کو کام کرکے رات کو اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔‘

Image caption قرونِ وسطیٰ میں کالے طاعون کی وجہ سے یورپ میں ڈھائی کروڑ افراد ہلاک ہوئے تھے

انھوں نے مزید کہا کہ ’اسی طرح سے چوہے بھی جیل میں آ جا سکتے ہیں جو اس بیماری کو پھیلاتے ہیں۔جیل میں ملاقاتی بھی آتے ہیں جنھیں واپس جانا ہوتا ہے انھیں بھی یہ بیماری لگ سکتی ہے۔جیل سے بیماری پھیلنے کے بہت سے ذرائع ہیں۔‘

جنیوا میں بی بی سی کے نامہ نگار ایموجن فائولکس کا کہنا ہے کہ آئی سی آر سی کا اس بیماری کو ختم کرنے کا پراجیکٹ پیچیدہ ہے کیونکہ صرف چوہوں کو مارنا کافی نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ طاعون کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حشرات اور چوہوں دونوں کو ختم کرنا چاہیے۔

آئی سی آر سی کے ایواریسٹو اولیرا نے کہا کہ کالے طاعون کا اگر پہلے سے پتہ چل جائے تو اس کا علاج ہو سکتا ہے۔ لیکن ملک میں سہولیات کی کمی اور بیماری کے بارے میں روایتی شرمندگی اس بیماری کے روک تھام کو پیچیدہ بنا دیتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا میں اس بیماری کے 90 فیصد کیس افریقہ بالخصوص مدغاسکر اور جمہوریہ کانگو میں پائے گئے ہیں۔

اسی بارے میں