ملالہ کا مشن کسی ایوارڈ سے کہیں بڑا ہے

Image caption ملالہ یوسفزئی کے شہر منگورہ میں لوگوں کو نوبل امن انعام کے فیصلے کا انتظار

پاکستان کی وادی سوات سے تعلق رکھنے والی ملالہ یوسفزئی نے صرف سولہ برس کی عمر میں وہ مقام حاصل کیا ہے کہ اب آپ اسے پسند کریں یا ناپسند، اس کی بات سے متفق ہوں یا مخالف ، کم از کم اسے نظر انداز نہیں کر سکتے۔

یہ مقام ملالہ کو خواتین کی تعلیم کے فروغ کے اس مقصد کی وجہ سے حاصل ہوا ہے جو اس پر طالبان کے حملے کی وجہ بنا اور پھر یہی مقصد ملالہ کو دنیا بھر میں وہ پہچان دلوا گیا کہ ایک پاکستانی لڑکی امن کے نوبیل انعام کے حصول کے اتنا قریب پہنچ گئی جتنا آج تک کوئی نہ پہنچ پایا تھا۔

ملالہ کو نوبیل انعام ملنا چاہیے تھا یا نہیں، اس سوال پر تو بحث ہوتی رہے گی کیونکہ پاکستان میں ملالہ کے حامیوں کی تعداد اگر لاکھوں میں ہے تو اسے آج بھی مغرب کا ایجنٹ یا اس کے عروج کو ایک سازش سمجھنے والے بھی کم نہیں۔

اس بحث سے قطع نظر ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا پاکستانی معاشرہ اپنے ان ہم وطنوں کی قدر کرنے کے قابل بھی ہے یا نہیں جنہیں عالمی سطح پر ان کے کام یا مقصد کی وجہ سے سراہا گیا ہے۔

آج بھی ملک میں اکثر لوگوں کے لیے نوبیل انعام یافتگان کی فہرست میں شامل واحد پاکستانی ڈاکٹر عبدالسلام کا تعارف ان کی سائنسی خدمات سے زیادہ ان کا مذہبی میلان ہے۔ لوگ یہ تو نہیں جانتے کہ انہیں کس کام پر یہ اعزاز ملا تھا لیکن یہ بات بچے بچے کو معلوم ہے کہ وہ ’احمدی‘ تھے۔

ان کی شناخت کے کام کے برعکس ان کا فرقہ کیوں بنی؟ اس بارے میں ماہرِ سماجیات عمر ندیم تارڑ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عبدالسلام کے بارے میں پاکستانی معاشرے کا رویہ ریاستی رویے کا عکاس ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاست کا رویہ عوامی رویے کے خطوط استوار کرتا ہے اور ڈاکٹر عبدالسلام کے معاملے میں یہی ہوا۔

عمر ندیم تارڑ کے مطابق انہیں یہ نوبیل انعام جنرل ضیاالحق کے دور میں ملا اور ’ریاست نے اس اعزاز کو نہ چاہتے ہوئے قبول کیا جس کا اثر معاشرے پر بھی پڑا‘۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس وقت ضیا حکومت اس ایوارڈ کو ملک کے لیے بھی عالمی اعزاز سمجھتی اور ڈاکٹر عبدالسلام کو عزت دی جاتی تو اس وقت کا معاشرہ بھی انہیں توقیر دیتا اور اپنی آنے والی نسل کو بھی یہی سکھاتا لیکن ایسا نہ ہو سکا۔

مذہب کو انتہائی ذاتی چیز سمجھنے والے ڈاکٹر عبدالسلام نوبیل انعام ملنے سے قبل ہی اپنے زمانے کے ’سٹیک ہولڈرز‘ کے ہاتھوں دینِ اسلام سے اپنے فرقے کے اخراج پر احتجاجاً ملک چھوڑ گئے تھے تو ملالہ کو اپنی زندگی بچانے کے لیے ملک سے باہر جانے پر ان عناصر نے مجبور کیا جنہیں حکومت آج ’سٹیک ہولڈر‘ مان چکی ہے۔

ان سٹیک ہولڈرز کی موجودگی میں ملالہ کے لیے اپنے مقصد کا حصول کتنا مشکل ہو سکتا ہے؟ اس سوال پر تجزیہ کار زاہد حسین کا کہنا ہے کہ ملالہ کے لیے خطرہ آج بھی برقرار ہے اور طالبان بارہا انہیں نشانہ بنانے کا اعلان کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت کی کمزوری ہے کہ وہ ان عناصر کو امن کی کوششوں میں سٹیک ہولڈر مان رہی ہے۔

زاہد حسین کے مطابق ملالہ کے پاکستان آنے میں ابھی وقت ہے تاہم اگر اس وقت تک طالبان کے اثرو نفوذ کو کم نہ کیا گیا تو خود ملالہ اور ان کا فروغِ تعلیم کا مقصد دونوں خطرے کا شکار رہیں گے۔

ملالہ پاکستان واپس کر تعلیم عام کرنے کے خاص مقصد کے تحت میدانِ سیاست میں قدم رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے اور ان کے اس اعلان سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ہم ملالہ کو وہ مقام دے پائیں گے جو ڈاکٹر عبدالسلام کو نہیں دے پائے اور ملالہ اپنا وہ خواب پورا کر پائے گی جو اس نے اپنی ہم وطن پچیوں کے لیے دیکھا ہے۔

اس بارے میں عمر ندیم تارڑ نے کہا کہ ’پاکستان میں جتنی بڑی تبدیلیاں آئی ہیں ان میں عوام کا حصہ نہ ہونے کے برابر رہا ہے اس لیے ہمارے معاشرے کا بڑا حصہ تبدیلی لانے کی کوشش کرنے والے ہر فرد کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ملالہ کے ساتھ بھی یہی صورتحال ہے‘۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آج کے معاشرے میں مثبت چیزوں کو قبول کرنے کی صلاحیت زیادہ ہے تاہم ملالہ کی عمومی قبولیت اور کامیابی کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر ہوگا کہ آج کی حکومت اس انفرادی کامیابی کو کس حد تک ملک کی کامیابی سمجھتی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ آج اور آنے والے دور کے پاکستان میں جب ملالہ جیسی’نہتی لڑکی‘ قلم سے تلوار کا مقابلہ کرنے کھڑی ہوئی ہے تو ہم میں سے کتنے لوگ اس کے ساتھ صرف اس لیے کھڑے ہوتے ہیں کہ یہ مقصد اسے ملنے والے کسی بھی ایوارڈ سے کہیں بڑا ہے۔

اسی بارے میں