یورینیم کسی طور ایران سے باہر نہیں بھیجیں گے:وزیرِ خارجہ عراقچی

 Abbas Araqchi
Image caption ایران کا موقف رہا کہ وہ پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افرزودہ کرتا ہے۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی صورت افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر لے جانے کی اجازت نہیں دے گا۔

اس انکار سے ایران نے مذاکرات کے لیے مغربی ممالک کے بنیادی مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔ عباس عراقچی ایران کے جوہری مسئلے کے حل کے لیے مغرب کے ساتھ مذاکرات میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے تہران میں سرکاری ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران یورینیم کی افزودگی کی قسم اور مقدار پر تو مذاکرات کرے گا مگر اس کی روک تھام اور اسے ملک سے باہر لے جانے پر کسی قسم کے مذاکرات نہیں کرے گا۔

عباس عراقچی کا یہ بیان منگل کو جنیوا میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے قبل آیا۔

اس سے قبل ایرانی پارلیمان نے اُن خبروں کی تردید کی جن میں کہا گیا تھا کہ ایران کے پاس افزودہ یورینیم کی فاضل مقدار ہے اور وہ اسے مذاکرات کے دوران اپنے حق میں معاہدہ کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔

ایوان نمائندگان کا کہنا تھا کہ یہ ’الزام جھوٹا اور بے بنیاد ہے‘۔ ایران 2006 سے عالمی طاقتوں سمیت چھ ممالک کے ساتھ اپنے جوہری مسئلے پر مذاکرات کر رہا ہے۔

اس سلسلے میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی کے نمائندوں نے ایرانی حکام سے مذاکرات کیے ہیں۔

ان مذاکرات کے دوران امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری نے ایرانی ہم منصب محمد جاوید ظریف سے بھی ملاقات کی جو 2007 کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان پہلا اعلیٰ سطحی رابطہ تھا۔

یاد رہے کہ ایران کے صدر حسن روحانی نے اقوام متحدہ کی جنرل کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ تہران اپنے ایٹمی پروگرام پر ’نتیجہ خیز‘ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

خطاب میں انہوں نے کہا تھا کہ ایٹمی پروگرام کے باعث ایران پر عائد کی گئی پابندیاں غلط ہیں۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ ’ایٹمی ہتھیار یا وسیع پیمانے پر تباہی مچانے والے ہتھیاروں کی ایران کے سکیورٹی اور دفاعی ڈاکٹرین میں کوئی جگہ نہیں ہے۔‘

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ اس لیے ایران فوری طور پر نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے تیار ہے تاکہ اعتماد سازی کی جانب بڑھ سکیں اور باہمی بد اعتمادی کو ختم کیا جا سکے۔

ایرانی صدر نے خطاب میں ایران پر لگائی جانے والی پابندیوں پر تنقید کی اور کہا ’صاف بات یہ ہے کہ یہ پابندیاں غلط ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ان پابندیوں کے باعث سیاسی امراء کو کوئی نقصان نہیں ہو رہا بلکہ عام آدمی ان سے متاثر ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں