شام: ریڈ کراس اور ہلال احمر کے سات کارکن اغوا

Image caption ہلالِ احمر کا موقف رہا ہے کہ انہیں شام میں زخمی اور بے گھر افراد کی امداد کے لیے رسائی حاصل کرنے میں بہت مشکلات کا سامنا ہے

بین الاقوامی امدادی تنظیموں انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس اور ہلالِ احمر کا کہنا ہے کہ شمال مغربی شام میں ان کے چھ کارکن اور ایک رضا کار اغوا کر لیے گئے ہیں۔

انٹرنیشنل ریڈ کراس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تنظیم کا ابھی تک اغوا کاروں سے کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔

اس سے پہلے شام کے ریاستی میڈیا نے کہا تھا کہ ریڈ کراس کے کارکنان ادلیب صوبے میں سمرين اور سراقب قصبوں کے درمیان شاہراہ پر سفر کر رہے تھے کہ مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کی۔

ہلالِ احمر اور ریڈ کراس کا موقف رہا ہے کہ انہیں شام میں زخمی اور بے گھر افراد کی امداد کے لیے رسائی حاصل کرنے میں بہت مشکلات کا سامنا ہے۔

تنظیم کے ترجمان ایون واٹسن نے کہا کہ ’ہم اپیل کرتے ہیں کہ اس ٹیم کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کر دیا جائے۔ یہ ٹیم امدادی کاروائیوں میں مصرف ہے اور ہم دونوں جانب یہ کام کرتے ہیں۔‘

انہوں نے مغوی افراد کی شناخت یا قومیت بتانے سے انکار کیا مگر کہا جا رہا ہے کہ ان میں غیر ملکی اور مقامی افراد دونوں شامل ہیں اور وہ طبی ماہرین کا عملہ ہے۔

شام کے ریاستی خبر رساں ادارے صنا نے اس سے پہلے ایک اہلکار کے حوالے سے بتایا تھا کہ ہلالِ احمر کے قافلے پر مسلح افراد نے حملہ کیا اور فائرنگ کے بعد کارکنوں کو اغوا کر لیا۔

تاہم تنظیم فائرنگ کی تصدیق نہیں کر سکی ہے۔ ایون واٹسن نے یہ بھی کہا کہ اہلکاروں کی گاڑیاں لاپتہ ہیں۔

آئی سی آر سی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ قافلے کی گاڑیوں پر ہلالِ احمر کا نشان واضح تھا جو کہ کسی قسم کا مذہبی انسان نہیں ہے۔

آئی سی آر سی کے ایک اور ترجمان سائیمن شورنو نے اے پی کو بتایا کہ حملہ اتوار کے روز مقامی وقت کے مطابق ساڑھے گیارے بجے پیش آیا۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ اس کارروائی کا ذمہ دار کون ہے تاہم شام کے ریاستی ٹی وی نے اس کا الزام ’مسلح دہشتگردوں‘ پر عائد کیا ہے۔ سام کا ریاستی ٹی وی حکومت مخالف باغی فوجوں کو مسلح دہشتگرد سے نام سے ظاہر کرتا ہے۔

بی بی سی جم موئر کا کہنا ہے کہ واقعہ جس علاقے میں پیش آیا ہے وہاں شدت پسند باغیوں کا اثر و رسوخ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت جب اقوام متحدہ تمام فریقوں سے زیادہ رسائی کا مطالبہ کر رہی ہے، اس واقعے سے ملک میں پہلے سے ہی مشکل اور خطرناک امدادی کارروائیاں اور زیادہ پیچیدہ ہو جائیں گی۔

سنیچر کو شامی حکومت نے باغیوں کے قبضے میں دمشق کے ایک مضافاتی قصبے سے پندرہ سو شہریوں کے انخلا کا عمل شروع کیا ہے۔ یہ قصبہ چار ماہ سک حکومتی فوج گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف مارچ دو ہزار گیارہ سے جاری خانہ جنگی میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس ماہ کے آغاز میں اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق شامی کشیدگی کی وجہ سے دو ہزار چودہ کے اختتام تک اسًی لاکھ شام افراد بے گھر ہو چکے ہوں گے۔

اسی بارے میں