اللہ کا لفظ صرف مسلمانوں کے لیے مخصوص: ملائیشیا کی عدالت

ملائیشیا میں ایک عدالت نے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ غیر مسلم خدا کے لیے لفظ ’اللہ‘ استعمال نہیں کر سکتے۔

اپیل عدالت نے کہا ہے کہ غیر مسلموں کو لفظ ’اللہ‘ کے استعمال کی اجازت دینے سے معاشرے میں انتشار پھیل سکتا ہے۔

عیسائیوں کا کہنا ہے کہ وہ ملائے زبان میں یہ لفظ عرصے سے استعمال کرتے آ رہے ہیں اور یہ فیصلہ ان کے حقوق کا استحصال ہے۔

دو ہزار نو میں ملائیشیا کی ہی ایک ذیلی عدالت نے اس لفظ کے استعمال کی اجازت دی تھی جس کے بعد ملک میں مذہبی کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا اور کئی گرجا گھروں اور مساجد پر حملے بھی کیے گئے تھے۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا تھا جب ملائیشیا کی حکومت نے کہا تھا کہ کیتھولک عیسائیوں کا ایک ملائے زبان کا اخبار عیسائیوں کے خدا کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے ’اللہ‘ کا لفظ استعمال نہیں کر سکتا۔

اس پر اخبار نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا جہاں سے دسمبر 2009 میں اس کے حق میں فیصلہ ہوا تھا جس کے خلاف حکومت نے اعلیٰ عدالت میں اپیل کر دی تھی۔

پیر کو اس اپیل کا فیصلہ سناتے ہوئے چیف جج محمد اپاندی نے کہا کہ ’لفظ اللہ کا استعمال عیسائی مذہب کا بنیادی حصہ نہیں۔‘

کیتھولک اخبار کے مدیر ریورنڈ لارنس اینڈریو کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے سے مایوس ہوئے ہیں اور اس کے خلاف اپیل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ مذہبی اقلیتوں کی بنیادی آزادی کے تناظر میں قانون سازی میں پیچھے کی جانب اٹھنے والا قدم ہے۔‘

اخبار کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ملائے زبان میں چھپنے والی بائیبل میں عیسائیوں کے خدا کے لیے لفظ اللہ کا استعمال ملائیشیا کے وفاقی ریاست بننے سے کہیں پہلے سے ہو رہا ہے۔

تاہم چند مسلم گروپوں کے مطابق عیسائی ’اللہ‘ کا استعمال مسلمانوں کو عیسائی مذہب کی جانب راغب کرنے کے لیے بھی کر سکتے ہیں۔

بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق پیر کو عدالتی فیصلے کے موقع پر کمرۂ عدالت کے باہر 100 سے زائد مسلمان جمع تھے جنہوں نے فیصلہ آنے کے بعد خوشی سے نعرے بازی کی اور بینر لہرائے جن پر لکھا تھا کہ لفظ ’اللہ‘ صرف اسلام کے لیے مخصوص ہے۔

خیال رہے کہ ملائیشیا میں پچاس فیصد سے زیادہ آبادی مسلمانوں کی ہے جبکہ ملک میں آباد چین اور بھارت سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد عیسائیت، ہندو مت اور بدھ مت کے ماننے والوں کی ہے۔

اسی بارے میں