امریکی بحران عالمی کسادبازاری شروع کرسکتا ہے: کرسٹین لاگارڈ

Image caption امریکہ اگر اپنے قرضے واپس نہ دے سکا تو دنیا بھر کی معیشت کو نقصان پہنچے گا: سربراہ کرسٹین لاگارڈ

بین الاقوامی مالیاتی ادارے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کی سربراہ کرسٹین لاگارڈ نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اگر اپنے قرضے ادا کرنے کے قابل نہ رہا تو دنیا پھر کساد بازاری کی جانب چل پڑے گی۔

ایک امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا ہے تھا کہ امریکہ اگر اپنے قرضے واپس نہ دے سکا تو دنیا بھر کی معیشت کو نقصان پہنچے گا۔

جمعرات کو امریکہ کا قرض مقررہ حد تک پہنچ جائے گا اور اگر قرض لینے کی حد نہیں بڑھائی گئی تو سترہ اکتوبر کو امریکی حکومت کے پاس اپنے اخراجات کے لیے رقم ختم ہو جائے گی۔

اپنے انٹرویو میں کرسٹین لاگارڈ نےکہا کہ امریکہ کو قرضے لینے کی اپنی مقررہ حد میں فوری طور پر اضافہ کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ بے یقینی اور امریکی ضمانتوں پر عدم اعتماد دنیا بھر میں معاشی بحران شروع کر سکتا ہے۔

اس سے پہلے عالمی بینک کے صدر جم یونگ کم نے خبردار کیا ہے کہ حکومتی قرض کی حد میں اضافے کے بحران کی وجہ سے امریکہ کے لیے ’ایک خطرناک وقت‘ چند ہی دن دور رہ گیا ہے۔

انہوں نے امریکی قانون دانوں پر زور دیا ہے کہ وہ جمعرات کی حتمی مدت سے قبل ہی حکومت کے قرض لینے کی حد میں اضافے پر سمجھوتہ کر لیں۔

جم یونگ کم کے خیال میں یہ ’دنیا بھر کے لیے تباہ کن واقعہ‘ ثابت ہو سکتا ہے۔

واشنگٹن میں عالمی بینک کے سالانہ اجلاس سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس ڈیڈ لائن کے جتنا نزدیک جائیں گے، ترقی پذیر دنیا پر اس کے اثرات اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اگر کوئی قدم نہ اٹھایا گیا تو اس کا نتیجہ شرحِ سود میں اضافے، اعتماد کی کمی اور بڑھوتری کی شرح میں کمی آنے شکل میں نکل سکتا ہے۔

بی بی سی کے اینڈرو واکر کا کہنا ہے کہ دوسرے ممالک کے وزرائے خزانہ کا خیال ہے کہ امریکہ اپنے قرضے واپس نہ سکے، اس بات کا امکان کم ہی ہے تاہم وہ اس سے پریشان ہیں اور چاہتے ہیں کہ بحران جلد از جلد حل ہو جائے۔

یاد رہے کہ امریکہ میں جاری جزوی طور پر ’حکومتی شٹ ڈاؤن‘ ختم کرنے کے لیے سنیچر کو ہونے والے مذاکرات ناکام ہوگئے تھے۔

ریپبلکن پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت نے کئی ہفتوں کے بعد پہلی بار مذاکرات شروع کیے تھے تاہم ان میں کوئی اتفاقِ رائے پیدا نہ ہو سکا۔

امریکہ میں وفاقی حکومت کی سرگرمیاں یکم اکتوبر کو اس وقت جزوی طور پر معطل ہو گئی تھیں جب حزبِ اختلاف کی اکثریت والے ایوانِ نمائندگان سے آئندہ مالی سال کا بجٹ منظور نہ ہونے کے بعد وائٹ ہاؤس نے کچھ وفاقی محکموں کو کام بند کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

دونوں جماعتوں کے درمیان صدر اوباما کے ’ہیلتھ کیئر پلان‘ کے حوالے سے اختلاف ہے اور ریپبلکن پارٹی اس پلان کے لیے بجٹ منظور کرنے کے لیے راضی نہیں ہیں۔

خیال رہے کہ امریکہ کے صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ وہ رپبلکن پارٹی سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں لیکن رپبلکنز کی جانب سے قرضوں کی حد میں اضافے اور حکومتی سرگرمیوں کی بحالی کے بدلے میں پالیسی رعایت کا مطالبہ ’بھتہ خوری‘ کے مترادف ہے۔

اس پر ایوان نمائندگان میں رپبلکن پارٹی کے سپیکر جان بوہینر نے کہا تھا کہ صدر کا یہ موقف کہ وہ اس وقت تک رپبلکنز سے بات نہیں کریں گے جب تک وہ ’ہتھیار نہیں ڈال دیتے‘، زیادہ دیر تک برقرار رہنے والا نہیں اور قرض کی حد کے معاملے پر بات چیت میں یہ معاملہ ضرور زیرِ بحث آنا چاہیے کہ قوم کیسے اپنے ذرائع سے کہیں زیادہ خرچ کر رہی ہے۔

اسی بارے میں