اٹلی: تارکینِ وطن کی ہلاکتوں کے بعد بحری نگرانی میں اضافہ

Image caption ایک ہفتہ پہلے لمپیدوزا جزیرے کے نزدیک ہی تارکینِ وطن کی کشتی کے حادثے میں 359 افراد ہلاک ہوئے تھے

اٹلی نے شمالی افریقہ سے آنے والی غیر قانونی تارکینِ وطن کی کشتیوں کے حادثوں میں سینکڑوں ہلاکتوں کے بعد ملک کی بحری سرحد پر گشت بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔

ملک کے وزیرِاعظم انریکا لیٹا نے کہا کہ پیر سے سسلی کے جنوب میں بحری حدود میں سمندری اور فضائی گشت شروع ہو جائے گا۔

خیال رہے کہ گذشتہ دو ہفتوں میں اطالوی جزیرے لمپیدوزا اور مالٹا کی سمندری حدود کے قریب افریقی تارکینِ وطن کی کشتیوں کے دو حادثوں میں 400 سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔

روزگار کی تلاش میں آخری سفر

اٹلی: ہلاکتوں کی تعداد 194، 200 تاحال لاپتہ

تارکینِ وطن کی بڑی تعداد میں آمد سے نمٹنے کے لیے اٹلی نے یورپین یونین سے امداد کی درخواست بھی کی تھی۔ حالیہ دنوں میں ہونے والے جانی نقصان کے بعد یورپی یونین پر اقدامات کے لیے دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ سے آنے والے ان تارکینِ وطن میں وہ خاندان شامل ہوتے ہیں جو جنگ اور غربت سے نکلنے اور اچھی زندگی کی امید لیے یورپ کا رخ کرتے ہیں۔

اٹلی کے وزیرِ دفاع ماریو مایورو نے کہا کہ اٹلی جنوبی بحیرۂ روم میں اپنی موجودگی تین گُنا تک بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

انھوں نے ایک مقامی اخبار کو بتایا کہ یہ قدم اٹھانا اس لیے بھی ضروری ہے کہ لیبیا میں فی الحال کوئی ’ریاستی حکومت‘ نہیں ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے ڈوبنے والی کشتی لیبیائی شہر مصراتہ کی بندرگاہ سے چلی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ’کشتیاں ڈوبنے کو روکنے کے لیے ہمیں سخت کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔‘

اطالوی میڈیا کے مطابق سمندر میں مشکلات سے دوچار کشتیوں کی نشاندہی کرنے کے لیے سسلی میں ڈرونز بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

اٹلی کے وزیرِ خارجہ ایما بونینو نے کہا کہ گشت پر مامور عملہ تارکینِ وطن کو یہ نہیں کہے گا کہ’آپ جہاں پر ہیں، وہیں رہیں‘ بلکہ انہیں بچایا جائے گا۔

بحری محافظوں اور سرحدی پولیس کی سمندری کشتیوں کے علاوہ اطالوی بحریہ کے تین بحری جہاز اور چار ہیلی کاپٹر بھی گشت میں حصہ لے رہے ہیںاور یہ اپنی مدد کے لیے دو ہوائی جہازوں کو بھی بلا سکتے ہیں جو رات کو بھی دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

گذشتہ جمعے کو کشتی ڈوبنے کے واقعے میں بچ جانے والوں نے بتایا کہ جب وہ لیبیا سے روانہ ہوئے تو ان پر فائرنگ کی گئی۔

ایک زندہ بچ جانے والے نے بی بی سی کو بتایا کہ کشتی پر سوار بعض افراد فائرنگ سے زخمی ہوئے اور گولیوں کی وجہ سے کشتی میں سوراخ پیدا ہوئے جس کے باعث کشتی ڈوبنے لگی۔

بعض افراد کا خیال ہے کہ یہ فائرنگ لیبیا کے سمندری محافظوں نے جبکہ بعض دوسری اطلاعات کے مطابق انسانی سمگلنگ کرنے والے مخالف گینگ یا لیبیا کے ملیشیا نے کی۔

مالٹا کے وزیرِاعظم جوزف ماسکت نے اتوار کو لیبیا کا دورہ کیا تھا جہاں انھوں نے اپنے ہم منصب علی زیدان کے ساتھ تارکینِ وطن کی کشتیوں کے مسئلے پر بات چیت کی۔

علی زیدان نے کہا کہ’ہم اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے پْرعزم ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ملک کے ساحلوں کی نگرانی کے لیے کئی اقدامات کیے گئے ہیں لیکن جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ انسانی سمگلرز نے اس کام میں بڑی مہارت حاصل کی ہے اس لیے بعض اوقات یہ کام حکام کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔‘

لیبیا میں 2011 میں معمر قذافی کا تختہ الٹنے کے بعد سے ملک کے بعض علاقوں پر مسلح ملیشیا کا راج ہے اور گذشتہ جمعرات کو ملک کے وزیرِاعظم علی زیدان کو بھی کئی گھنٹوں تک یرغمال بنایا گیا تھا۔

اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق 1990 کی دہائی سے اب تک بحریۂ روم کے راستے یورپ پہنچنے کی خواہش میں اندازاً 20 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں