برطانیہ کا چینیوں کے لیے ویزے میں نرمی کا اعلان

Image caption موجودہ قانون کے تحت ایک ہی ویزا سے یورپ کے بیشر ممالک کا دورہ کیا جا سکتا ہے جبکہ برطانیہ کے لیے علیحدہ ویزے کی ضرورت ہوتی ہے

حکومتِ برطانیہ کے سینیئر اہلکار چانسلر جارج اوسبورن نے چین کے شہریوں کے لیے ویزا قوانین میں نرمی کرنے کا اعلان کیا ہے۔

برطانوی چانسلر یورپ آنے والے چینیوں کے لیے برطانیہ آنے میں آسانی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

جارج اوسبورن کی سربراہی میں برطانوی تجارتی وفد ایک ہفتے کے لیے چین کے دورے پر ہے جہاں انھوں نے یہ بات کہی۔

اس دورے میں برطانوی وفد چینی سرمایہ کاروں کو برطانیہ میں سرمایہ کاری کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے۔

برطانیہ: امیگریشن اور بے روزگاری میں ربط

اس نئے منصوبے کے تحت چین سے یورپی ممالک کا سفر کرنے والے اگر مقررہ کردہ ایجنٹوں کے ذریعے بکنگ کرواتے ہیں تو انہیں برطانیہ میں داخلے کے لیے علیحدہ ویزا درخواست جمع نہیں کرانی پڑے گی۔

جارج اوسبورن نے کہا کہ فیصلے کا مقصد برطانیہ آنے والوں کی زیادہ سے زیادہ حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ’ان تبدیلیوں سے برطانیہ آنے والے چینیوں کے لیے ویزا حاصل کرنے کا عمل آسان ہو جائے گا جبکہ اس نظام کی مضبوطی اور حفاظت کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔‘

موجودہ قانون کے تحت ایک ہی ویزے پر یورپ کے بیشر ممالک کا دورہ کیا جا سکتا ہے جبکہ برطانیہ کے لیے علیحدہ ویزے کی ضرورت ہوتی ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اضافی کاغذی کارروائی کی وجہ سے زیادہ تر چینی یورپی ممالک بشمولِ برطانیہ کے دورے سے کتراتے ہیں۔

برطانوی حکام کے مطابق بیجنگ اور شنگھائی میں جاری موبائل ویزا سکیم کو بھی بڑھایا جائے گا۔

موبائل سروس کے تحت سرکاری ہلکار درخواست گزار کے پاس جا کر ان سے معلومات اور بائیو میٹرک ڈیٹا اکھٹی کرتے ہیں۔ اس عمل پر پانچ منٹ سے بھی کم وقت لگتا ہے۔

آئندہ موسمِ گرما سے ’انتہائی ترجیحی‘ بنیادوں پر ویزا کی 24 گھنٹے سروس کا بھی آغاز کیا جائے گا تاہم اس بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کی گئیں لیکن اس قسم کی سکیم بھارت میں چل رہی ہے۔

برطانوی تاجر جو چینی سیاحوں کی آمد سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، اس فیصلے سے خوش ہونگے۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سال دو لاکھ دس ہزار چینیوں کو ویزے جاری کیے گئے جنھوں نے ملک کی معیشت میں 300 ملین پاؤنڈ کا حصہ ڈالا۔

.

اسی بارے میں