نائجیریا: ایمنٹسی انٹرنیشنل کی حراست میں ہلاکتوں پر تشویش

Image caption بوکو حرام نائجیریا میں اپنی طرز کی اسلامی ریاست قائم کرنے کے لیے لڑائی میں مصروف ہے

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ نائجیریا کے شمال مشرقی علاقوں میں شدت پسند تنظیم بوکو حرام کو کچلنے کےلیے جاری فوجی کارروائی کے دوران سینکڑوں لوگ حراستی مراکز میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق بعض قیدخانوں میں اتنے لوگوں کو رکھا گیا ہے کہ بعض دم گھٹنے سے فوت ہوئے ہیں جبکہ باقی لوگ یا تو بھوک سے یا ماورائے عدالت ہلاکتوں میں مارے گئے ہیں۔

نائجیریا: بوکو حرام کا حملہ، 90 ہلاک

بوکو حرام کے سربراہ ’ہلاک‘ کر دیے گئے

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق نائجیریا کی فوج کے ایک افسر نےتنظیم کو بتایا ہے کہ اس سال کے پہلے چھ مہینوں میں کم سے کم ساڑھے نو سو افراد دوران حراست ہلاک ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد پر الزام تھا کہ ان کا تعلق شدت پسند تنظیم بوکو حرام سے ہے۔ تنظیم نے اس فوجی افسر کا نام ظاہر نہیں کیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی لوسی فریمین اس ٹیم میں شامل تھیں جنہیں نائجیریا کے ایسے بعض افراد سے بات کرنے کا موقع ملا ہے جو حراستی مراکز میں قید رہ چکے ہیں۔ ’جن لوگوں سے ہماری بات ہوئی ہے اُن لوگوں نے حراست کے دوران لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنتے اور مرتے ہوئے دیکھا تھا۔‘

نائجیریا کی حکومت کی طرف سے اب تک ایمنسٹی کی اس رپورٹ پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے مگر نائجیریا کی فوج ماضی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تمام الزامات رد کرتی رہی ہے۔

بوکو حرام نائجیریا کی حکومت کو ہٹانے اور وہاں اپنی طرز کی اسلامی ریاست قائم کرنے کے لیے لڑائی میں مصروف ہے۔

نائجیریا کی تین شمالی ریاستوں یوبے، بورنو اور ایڈاماوا میں شدت پسندوں کے حملوں میں ہزاروں افراد کی ہلاکت کی بعد اس سال مئی میں ہنگامی حالت نافذ کی گئی تھی۔

نائجیریا میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایمنسٹی کی تازہ رپورٹ نے ملک کے شمالی علاقوں کی زندگی کے خوفناک پہلو کو اجاگر کیا ہے۔

اسی بارے میں