جنیوا: ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں’محتاط پرامیدی‘

Image caption اس بات چیت میں کسی ’طریقۂ کار‘ پر اتفاق ہو جائے گا:محمد جاوید ظریف

سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں چھ عالمی طاقتوں اور ایران نے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے آغاز پر ’محتاط پرامیدی‘ کا اظہار کیا ہے۔

ایران میں صدر حسن روحانی کے عہدہ صدارت سنبھالنے اور امریکی صدر براک اوباما سے ٹیلی فون پر گفتگو کے بعد یہ مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔

یورپی یونین کے ایک ترجمان کے مطابق دو روزہ مذاکرات میں شامل ایرانی ٹیم نے اپنی تجاویز پیش کی ہیں۔

ایران اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی جسے پی فائیو پلس ون گروپ کہا جاتا ہے کے درمیان بات چیت کا آغاز منگل کو جنیوا میں ہوا ہے۔ پی فائیو پلس ون گروپ میں برطانیہ، چین، فرانس، روس، امریکہ اور جرمنی شامل ہیں۔

جوہری پروگرام پر بامعنی مذاکرات کی پیشکش

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایسٹن کے ترجمان مائیکل مان نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ایرانی ٹیم نے اپنی تجاویز پاور پوائنٹ پر پیش کی ہیں‘۔

تاہم ان تجاویز کے بارے میں تفصیل نہیں بتائی لیکن ان کا کہنا تھا کہ بند کمرے میں شروع ہونے والے مذاکرات میں’محتاط پرامیدی‘ کا ماحول تھا۔

ایرانی وفد کی سربراہی نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں اور ان کے مطابق مذاکرات مثبت ماحول میں شروع ہوئے ہیں اور ایران کی جانب سے آگے بڑھنے کے لیے دی جانی والی تجاویز پر مثبت ردعمل سامنے آیا ہے۔

عباس عراقچی کے مطابق ’ہم بہت سنجیدہ ہیں، ہم یہاں محض علامتی طور پر نہیں آئے اور نہ ہی اپنا وقت ضائع کرنے آئے ہیں۔ ہم ایران اور دوسرے فریقوں کے درمیان حقیقی بامقصد بات چیت میں سنجیدہ ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ہم نے جو منصوبہ پیش کیا ہے، اُس میں بھی کسی اتفاق رائے تک پہنچنے کی قوت موجود ہے‘۔

اس سے پہلے ایران کے وزیرِ خارجہ محمد جاوید ظریف نے امید ظاہر کی کہ اس بات چیت میں کسی ’طریقۂ کار‘ پر اتفاق ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ یہ عمل ’وقت طلب‘ ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ بدھ تک ہم مسائل کے حل کے لیے کسی طریقۂ کار پر متفق ہو جائیں گے۔‘

ایران کے نئے صدر حسن روحانی، جنھیں نسبتاً اعتدال پسند سمجھا جاتا ہے، نے کہا ہے کہ وہ چھ مہینوں کے اندر اندر کوئی سمجھوتہ کرنا چاہتے ہیں۔

مغربی ممالک کو شبہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس کی تہران تردید کرتا ہے۔

بات چیت سے پہلے اسرائیل نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر دباؤ کم کرنا ’ایک تاریخی غلطی ہو گی‘۔

حسن روحانی کے اگست میں صدر بننے کے بعد یہ اپنی نوعیت کے پہلے مذاکرات ہیں جن سے کوئی معاہدہ ہونے کی امیدیں وابستہ کی گئی ہیں۔

جنیوا میں بی بی سی کے نامہ نگار جیمس رینلڈز کا کہنا ہے کہ مغربی طاقتیں چاہتی ہیں کہ تہران جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل نہ کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کرے۔ اس کے بدلے وہ ایران پر حالیہ سالوں میں لگائی گئیں بین الاقوامی پابندیاں ختم کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔

تاہم مغربی ممالک نے اشارہ دیا کہ دو دن میں کوئی سمجھوتہ ہونا مشکل ہو گا۔ ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’اتنی جلدی کسی نتیجے کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔‘

مغربی ممالک کو شبہ ہے کہ ایران جوہری اسلحہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پرگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔

ایران اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی کے ان مطالبات کو مسترد کر چکا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی کا اپنا پروگرام بند کردے۔

خیال رہے کہ ایران پی فائیو پلس ون گروپ کے ساتھ 2006 سے بات چیت کرتا رہا ہے کیونکہ وہ اقوام متحدہ کی طرف سے اس پر لگائی گئیں پابندیاں ہٹوانا چاہتا ہے۔

اسی بارے میں