جنیوا: ایران کے جوہری پروگرام پر جامع ترین مذاکرات

Image caption یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے کہا کہ یہ اب تک ہونے مذاکرات میں سب سے زیادہ تفصیلی اور جامع مذاکرات تھے

ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں دنیا کے چھ اہم ممالک اور ایران کے درمیان ہونے والی بات چیت کو اب تک ہونے والے مذاکرات میں سب سے زیادہ تفصیلی قرار دیا گیا ہے۔

یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے کہا کہ یہ اب تک ہونے مذاکرات میں سب سے زیادہ تفصیلی اور جامع مذاکرات تھے۔

سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ہونے والے ان مذاکرات میں ایرانی حکام کے ساتھ برطانیہ، چین، فرانس، روس، امریکہ اور جرمنی کے نمائندے شامل رہے۔

دونوں فریقوں کے درمیان دو روز تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد اب مزید بات چیت سات اور آٹھ نومبر کو دوبارہ جنیوا میں ہوگی۔

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظريف نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہ ’بات چیت کافی وسیع اور فائدہ مند رہی‘ اور یہ کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ’اس سے ہمارے تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ہو گا اور ایک غیر ضروری بحران کا خاتمہ بھی ہو سکے گا‘۔

یورپی یونین کی نمائندہ بیرنس ایشٹن نے بتایا ہے کہ بین الاقوامی مذاکرات ایران کے تجویز کو کافی احتیاط سے پرکھ رہے ہیں۔

مذاکرات کے بعد دونوں فریقوں نے زور دے کر کہا کہ ابھی کئی اور معلاملات پر بات چیت ہونا باقی ہے۔

اس سے پہلے ایک ایرانی اہلکار نے کہا تھا کہ ایرانی جوہری تنصیبات کے اچانک معائنہ جیسی باتیں معاہدے کے ’آخری مرحلے‘ میں ہو سکتی ہیں۔

ایرانی افسر نے ایرانی میڈیا کو بتایا تھا کہ یورینیم کی افزودگی کی سطح کم کرنا بھی حتمی معاہدے کا حصہ ہو گا۔

ایران اس سے پہلے کہہ چکا ہے کہ جنيوا میں دو روزہ مذاکرات میں یہ ’تجویز ایک نئے عمل کی ابتدا کی صلاحیت رکھتا ہے‘۔

حسن روحانی کے اگست میں صدر بننے کے بعد یہ اپنی نوعیت کے پہلے مذاکرات ہیں جن سے کوئی معاہدہ ہونے کی امیدیں وابستہ کی گئی ہیں۔

ایران اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی جسے پی فائیو پلس ون گروپ کہا جاتا ہے کے درمیان بات چیت کا آغاز منگل کو جنیوا میں ہوا۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایسٹن کے ترجمان مائیکل مان نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ’ایرانی ٹیم نے اپنی تجاویز پاور پوائنٹ پر پیش کیں‘۔

تاہم ان تجاویز کے بارے میں تفصیل نہیں بتائی لیکن ان کا کہنا تھا کہ بند کمرے میں شروع ہونے والے مذاکرات میں’محتاط پرامیدی‘ کا ماحول تھا۔

مغربی ممالک کو شبہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس کی تہران تردید کرتا ہے۔

بات چیت سے پہلے اسرائیل نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر دباؤ کم کرنا ’ایک تاریخی غلطی ہو گی‘۔

خیال رہے کہ ایران پی فائیو پلس ون گروپ کے ساتھ 2006 سے بات چیت کرتا رہا ہے کیونکہ وہ اقوام متحدہ کی طرف سے اس پر لگائی گئیں پابندیاں ہٹوانا چاہتا ہے۔

اسی بارے میں