دو سو چھیاسی کلو وزنی خاتون کا مشین پر بیٹھ کر حج

Image caption سعودی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس برس تقریباً تیرہ لاکھ افراد حج کے لیے سعودی عرب آئے

سعودی عرب میں دو سو چھیاسی کلو وزنی ایک خاتون کو، جن کے لیے اپنے وزن اور موٹاپے کی وجہ سے چل کر حج کے مناسکِ حج ادا کرنا ممکن نہیں تھا، کرین نما مشین پر بٹھا کر حج کرایا گیا۔

مصر میں سرکاری خبر ایجنسی ’مینا‘ کے مطابق سڑسٹھ برس کی خاتون کو ان کے ہوٹل سے ’مشین‘ پر بٹھا کر عرفات کے میدان میں اس مقام پر لایا گیا جہاں اسلام کے پیغمبر نے اپنی زندگی کا آخری خطبہ دیا تھا۔

نیوز ایجنسی کے مطابق مصری نژاد خاتون کو ادائیگیِ حج میں مدد دینے کے لیے سعودی عرب میں مصر کی سفارتی مشن کے عملے کے علاوہ آٹھ پولیس اہلکاروں پر مشتمل ٹیم بنائی گئی تھی۔

حج کے سیزن میں مکہ آنے والے زائرین مناسکِ حج کی ادائیگی کے دوران میں میدانِ عرفات میں دن گزارتے ہیں اور پھر شیطان کو کنکریاں مارنے کے رکنِ حج کی تکمیل کے لیے پتھر جمع کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں۔

سعودی عرب نے کہا تھا کہ اس سال تیرہ لاکھ افراد حج ادا کریں گے۔ دبئی کی ایک ویب سائٹ العریبیہ کے مطابق ان میں سے نصف سے زیادہ افراد سعودی عرب سے باہر سے آئے۔

اس ویب سائٹ نے یہ بھی کہا ہے کہ باہر سے آنے والوں میں ایک بہت بڑی اکثریت فضائی سفر کر کے سعودی عرب آتی ہے۔ پروازوں کے علاوہ عازمینِ حج زمینی ٹرانسپورٹ یا بحری جہاز کا استعمال بھی کرتے ہیں۔

لیکن پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک عازمِ حج اس مرتبہ چھ ہزار تین سو ستاسی کلو میٹر پیدل چل کر مکہ پہنچے۔ وہ پہلے ایران گئے، پھر عراق پہنچے اور اس کے بعد اردن سے ہوتے ہوئے سعودی عرب آئے