دورِ جدید کی غلامی کے جرائم میں عمر قید دینے پر غور

انسانی سمگلنگ کا شکار ہونے والی لڑکیوں کو بازیاب کرا لیا گیا
Image caption انسانی اسمگلنگ کے واقعات میں گزشتہ سال پچیس فیصد اضافہ ہوا ہے

برطانوی حکومت انسانی سمگلنگ کے سنگین نوعیت کے جرائم میں ملوث افراد کو عمر قید کی سزا دینے کا قانون متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے۔

برطانوی وزیر داخلہ نے انسانی سمگلنگ کو ’دورِ جدید کی غلامی‘ قرار دیا ہے۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال بارہ سو افراد کو برطانیہ سمگل کیا گیا۔

حکام کے مطابق گزشتہ سال انسانی سمگلنگ کے واقعات میں سنہ دو ہزار گیارہ کی نسبت پچیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔

برطانوی پولیس کے چیف کانسٹیبل شاون سائر نے کہا کہ قانون میں اس طرح تبدیلی کی ضرورت اس لیے ہے کہ اس نوعیت کے مقدمات میں مجرموں کو سزا دللوانے کو یقینی بنایا جا سکے۔

گزشتہ روز ہی پاکستان سے لائی گئی ایک گونگی بہری بچی کو جبری مشقت، جنسی تشدد اور تہہ خانے میں قید رکھنے کے مقدمے میں ایک پاکستان نژاد عمر رسیدہ جوڑے پر جرم ثابت ہوا ہے۔

یاد رہے کہ حال ہی میں غیر قانونی تارکین وطن کی کشتیاں اطالوی جزیرے لمپیدوزا اور مالٹا کی سمندری حدود میں حادثوں کا شکار ہو گئی تھیں جن میں چار سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس ہفتے عالمی سطح پر جبری مشقت اور ’غلامی‘ کے حوالے سے سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ مغربی اور ترقی یافتہ ممالک بھی ان جرائم سے پاک نہیں ہیں۔

ان ملکوں میں برطانیہ کے علاوہ دیگر مغربی ملک بھی شامل ہیں۔

برطانیہ میں جبری مشقت، جنسی کاروبار اور غلامی کے سلسلے میں جن ملکوں سے لوگوں کو یہاں لایا جاتا ہے ان میں نائجیریا، ویتنام، چین اور مشرق یورپ کے لوگ شامل ہیں۔

ان لوگوں کو جنسی کاروبار، کھیتوں میں مزدوری اور تعمیراتی کاموں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات ان سے بھیک منگوائی جاتی ہے اور انھیں غیر قانونی طریقے سے سرکاری مالی مراعات حاصل کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

عموماً ان لوگوں کو بہت کم اجرت دی جاتی ہے یا انھیں بالکل اجرت نہیں دی جاتی۔