امریکہ: شٹ ڈاؤن میں کس نے کیا کھویا کیا پایا

Image caption شٹ ڈاؤن ریپبلیکن پارٹی کے لیے سیاسی طور پر انتہائی تباہ کن ثابت ہوا ہے: واشنٹگن پوسٹ

امریکی ایوان نمائندگان کے ریپبلیکن سپیکر جان بوہنر اوباما انتظامیہ کے ساتھ ہیلتھ کیئر پر جھگڑ ے میں ایک ایسے بے اثر سپیکر کے طور پر ابھرے ہیں جو کسی کنزرویٹو اینجڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری حمایت سے محروم ہیں۔

مبصرین کے مطابق جان بوہنر کی واحد کامیابی ان کا سپیکر کے عہدے پر برقرار رہنا ہے ۔

سپیکر جان بوہنر کا ایک نکاتی ایجنڈا ہے کہ وہ کسی طرح صدر اوباما کی طرف سے متعارف کرائی جانے والی ’ایفورڈ ایبل کیئر ایکٹ‘ جسے عرف عام میں اوباما کیئر کے نام سے جانا جاتا ہے کو روک سکیں یا ایسی شرائط عائد کرنے میں کامیاب ہو جائیں جن سے یہ بل عملاً ناکارہ ہو جائے۔

کٹر کنزویٹو(قدامت پسند) لوگوں کی تحریک ٹی پارٹی کے زیر اثر سپیکر جان بوہنر نے اوباما انتظامیہ سے جو جھگڑا شروع کیا وہ امریکی حکومت کے جزوی شٹ ڈاؤن پر متنج ہوا۔ اس جھگڑے میں ان کو بری طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور وہ ایک بھی قابل ذکر رعایت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔

Image caption صدر براک اوباما شٹ ڈاؤن جھگڑے میں طاقت ور صدر بن کر ابھرے ہیں

ریپبلیکن پارٹی کی نائب صدرات کی سابق امیدوار سارہ پیلن ٹی پارٹی تحریک کی ایک سرگرم رکن ہیں۔ یہ وہ تحریک ہے جس کے مقاصد میں صدر اوباما کو زک پہنچانے کی کوشش کرنا ہے۔

سارہ پیلن نے شٹ ڈاؤن جھگڑے میں ریپبلیکن کی شکست کے بعد اپنے فیس بک صفحے پر لکھا: ’ہمت پکڑو۔ ہم 2014 میں چیزوں کو ہلا کر رکھ دیں گے۔ آج رات خوب آرام کریں۔ ہمیں جلد ہی ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں درڑیں ڈالنی ہیں۔‘

ایوان نمائندگان کے سپیکر جان بوہنر نے اوباما ہیلتھ کیئر پر کوئی رعایت حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد کہا:’ہم نے ایک اچھی لڑائی لڑی ہے۔ بس ہم جیت نہیں سکے۔‘

انہوں نے مزید کہا :’ہماری ٹیم نے ہار نہیں مانی ہے۔ اور میں نے بھی ہار نہیں مانی ہے۔ ‘

ریپبلیکن پارٹی کے کئی اراکین کو اپنی بے بسی پر حیرت ہوئی ہے۔

پارٹی کے ایک رہنما ڈیرل عیسیٰ نے کہا:’اب ہمیں پتہ چلا ہے کہ ہمیں 218 ممبران کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ سپیکر جان بوہنر اور ہاؤس کے لیڈر کینٹور کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ ہمیں 218 ممبران کی حمایت دلوائیں۔‘

واشنگٹن پوسٹ کی صحافی کیرن ٹوملٹی لکھتے ہیں کہ ریپبلیکن پارٹی نے اس ہزیمت کے بعد اپنے گریبان میں جھانکنا شروع کیا ہے اور ان کے سامنے سب سے اہم سوال یہ ہے: ’ٹی پارٹی سے جان چھڑونے کی صورت میں ہمیں کیا قیمت ادا کرنی پڑے گی۔؟‘

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق شٹ ڈاؤن ریپبلیکن پارٹی کے لیے سیاسی طور پر انتہائی تباہ کن ثابت ہوا ہے۔

ریپبلیکن پارٹی کے بعض ممبران کو واشگٹن میں اب کسی کامیابی کی امید نہیں ہے۔

Image caption امریکی شٹ ڈوان میں ریپبلیکنز کی حزیمت کے بعد ٹی پارٹی تحریک سے تعلقات پر از سرنو غور

ریپبلیکن نیشنل کمیٹی کے سابق چیئرمین ایڈ گلسپی کہتے ہیں:’یہاں سے یہ جماعت (ریپبلیکن) ریاستوں کا راستہ اختیار کرے گی۔‘

اوباما انتظامیہ کے براہ راست جھگڑے نے ریپبلیکن پارٹی کی حمایت میں زبردستی درآڑ ڈالی ہے۔

سینٹیر راب پورٹمین کہتے ہی:’ہمیں بطور ٹیم اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا۔اس تجربے کے بعد مجھے امید ہے کہ ہم بطور ٹیم اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر پائیں گے۔‘

اس بری شکست کے باوجود اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ ریپبلیکن پارٹی جنوری سنہ 2014 پھر ایک ایسے جھگڑے میں شامل نہیں ہو گی جب حکومت کی فنڈنگ کے لیے ایک اور بل پیش کیا جائے۔

اوبامہ انتظامیہ کے ساتھ جھگڑا کرانے والوں میں پیش پیش ٹم ہولسکیمپ نے کہا: ’ہم کسی اور موقع کی تلاش میں رہیں گے۔ ہم نے ایک نشانہ لیا تھا لیکن کامیاب نہیں ہوئِے۔ ہم اوباما کیئر پر ایک اور لڑائی کے انتظار میں رہیں گے۔‘

ریپبلیکن سینٹر ٹیڈ کروز نے جو اوباما انتظامیہ کے ساتھ جھگڑے میں پیش پیش تھے، شکست کے بعد کہا:’ میں اوباما کیئر کو روکنے کے لیے سب کچھ کرنے پر تیار ہوں‘۔ ٹیڈ کروز ایک اور شٹ ڈاؤن کے امکانات کو بھی رد نہیں کرتے۔