سعودی عرب کا سکیورٹی کونسل کی غیر مستقل نشست لینے سے انکار

 سلامتی کونسل
Image caption ماضی میں انسانی حقوق کے حوالے سے تنقید کے باعث سعودی عرب کبھی سلامتی کونسل کا رکن نہیں بن پایا۔

سعودی عرب نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہونے کے ایک روز بعد ہی کونسل کی نشست لینے سے انکار کر دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے جمعرات کو پانچ غیر مستقل ارکان کا انتخاب کیا تھا اور سعودی عرب کو پہلی بار منتخب کیا گیا تھا۔

سعودی عرب کے علاوہ چاڈ، چلی، لیتھوینیا اور نائجیریا بھی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن منتخب ہوئے ہیں۔

سعودی عرب نے غیر مستقل رکن کی سیٹ چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی کونسل کا دوہرا معیار ہے جس کی وجہ سے دنیا میں امن کے لیے کام کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل میں اصلاحات کی ضرورت ہے تاہم اس نے اس حوالے سے وضاحت نہیں کی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ایک سو ترانوے اراکین نے ان پانچوں ممالک کو بلا مقابلہ منتخب کیا تھا۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ہیں جن میں امریکہ، برطانیہ، روس، چین اور فرانس شامل ہیں۔باقی دس غیر مستقل اراکین دو سال کے لیے متخب کیے جاتے ہیں۔

سعودی عرب: خواتین کو ووٹ دینے کا حق

سعودی خاتون ڈرائیور’گرفتار‘

جعمرات کو منتخب ہونے والے ان پانچ ممالک نے آذربائیجان، گوئٹے مالا، مراکش، پاکستان اور ٹوگو کی جگہ لی ہے۔ نئے ارکان کی دو سالہ مدت یکم جنوری دو ہزار چودہ سے شروع ہوگی۔

سعودی عرب اور چاڈ کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے تنقید کا سامنا رہا ہے۔ سعودی عرب کو عورتوں کے حقوق کے حوالے سے تنقید کا سامنا رہا ہے کیونکہ وہاں پہلے خواتین کو ووٹ کا حق حاصل نہیں تھا۔ سعودی عرب میں خواتین کو گاڑی چلانے اور تنہا گھومنے پھرنے کی اجازت نہیں۔ چاڈ میں کم عمر بچوں کو فوج میں بھرتی کرنے پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ میں سعودی عرب کے سفیر عبداللہ المعلمی کا کہنا تھا:’ہمارا انتخاب اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہم نے طویل مدت سے اعتدال پسندی کی پالیسی اپنائے رکھی ہے اور ہم تنازعات کو پر امن طریقے سے حل کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ :’سعودی عرب شام میں لوگوں کی آزادی، خوشحالی اور اتحاد کے لیے جاری کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔‘

سعودی عرب شام میں جاری جنگ میں باغیوں کا سب سے زیادہ حامی تصور کیا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنائے جانے کی وجہ سے سعودی عرب کبھی بھی سلامتی کونسل کا رکن نہیں بن پایا۔

تاہم سعودی حکومت کے ایک مشیر نواف عبید نے فرانسیسی خبر رساں ادارے ایک ایف پی سے بات کرتے کہا ’ماضی میں سعودی عرب کو دانستہ طور پر سلامتی کونسل سے دور رکھا گیا لیکن اب وہ شام میں صدر اسد کے ہاتھوں پریشان لوگوں کی آواز سننا اور ایران سمیت دیگر اہم معاملات پر بات کرنا چاہتے ہیں۔‘

جمعرات کو منتخب ہونے والے پانچ ارکان میں سے چاڈ، سعودی عرب اور لیتھوینیا اس سے پہلے کبھی سلامتی کونسل کے رکن نہیں رہے ہیں۔ نائجیریا اور چلی ماضی میں چار چار مرتبہ منتخب ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں