’کوئی خفیہ امریکی دستاویز اپنے ساتھ نہیں لایا‘ ایڈورڈ سنوڈن

Image caption روسی حکام نے سنوڈن کی پناہ کی درخواست پر انہیں ایک سال کا ویزا دیا تھا

امریکہ کے راز افشا کرنے والے سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کا اصرار ہے کہ جب جون کے ماہ میں وہ ہانگ کانگ سے ماسکو آئے تو وہ اپنے ساتھ کوئی خفیہ دستاویزات نہیں لے کر آئے۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ ہانگ کانگ میں صحافیوں کو تمام دستاویزات دے چکے ہیں اور انہوں نے اپنے پاس ان کی کوئی کاپیاں نہیں رکھیں۔

ایڈورڈ سنوڈن کا یہ بھی کہنا تھا کہ چین کو کوئی خفیہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

امریکہ چاہتا ہے کہ ایڈورڈ سنوڈن کو امریکہ بھیجا جائے تاکہ ان پر مقدمہ چلایا جا سکے تاہم روس نے انہیں ملک بدر کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

روسی حکام نے سنوڈن کی پناہ کی درخواست پر انہیں ایک سال کا ویزا دیا تھا۔

ایڈورڈ سنوڈن نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ وہ اپنے ساتھ کوئی دستاویزات اس لیے نہیں لائے کیونکہ وہ ’مفادِ عامہ کے خلاف‘ ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ ’دستاویزات کی کاپیاں خود لے کر پھرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔‘

ذرائع ابلاغ میں یہ اطلاعات بھی ہیں کہ ہانگ کانگ سے روانگی سے پہلے چین کی حکومت کو کچھ خفیہ معلومات فراہم کی گئی تھیں۔

کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ سنوڈن چینی خفیہ اداروں کے ساتھ کام کر رہے تھے جبکہ کچھ مبصرین کا دعویٰ ہے کہ وہ روسی حکام کے ساتھ تھے۔

تاہم ایڈورڈ سنوڈن نے ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’اس بات کا ہرگز امکان نہیں کہ روسی یا چینی حکام تک کوئی دستاویزات پہنچے ہوں۔‘

انہوں نے کہا کہ این ایس اے کے ساتھ ان کی گذشتہ ملازمت کا محور چین تھا اسی لیے انہیں تمام چینی اہداف تک رسائی حاصل تھی، اسی لیے انہیں یقین ہے کہ ان کی فراہم کردہ معلومات چینی حکام تک نہیں پہنچیں۔

نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ یہ انٹرویو کئی روز کے دوران خفیہ نیٹ ورکوں کی مدد سے کیا گیا۔

ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے افشا کی گئی معلومات سے پتا چلا ہے کہ امریکی حکومت این ایس اے اور سی آئی اے کے ذریعے انتہائی بڑے پیمانے پر دنیا بھر میں حکومتوں، کاروباروں اور عام شہریوں کی جاسوسی کرتی ہے۔

اس عمل کا نشانہ بننے والوں میں چین اور روس کے علاوہ یورپی یونین اور برازیل جیسے اتحادی ممالک بھی شامل ہیں۔

ان انکشافات کے ردِ عمل میں این ایس اے کو اس بات کا اعتراف کرنا پڑا کہ وہ لاکھوں امریکی شہریوں کی ای میل اور فون ریکارڈ کا جائزہ لیتی ہے۔

اسی بارے میں