سلواڈور: جہاں حادثاتی اسقاط حمل کی سزا بھی عورت کو

Image caption ای ایل سیلواڈور میں اسقاطِ حمل کی کسی حالت میں اجازت نہیں چاہے لڑکی کے ساتھ ریپ کیا گیا ہو، اس کی جان کو خطرہ ہو یا حمل ہی ابنارمل کیوں نہ ہو۔

لاطینی امریکہ کا ملک ایل سلواڈور دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں اسقاط حمل کے لیے سخت ترین قوانین موجود ہیں۔ جس کا سب سے زیادہ نقصان ان خواتین کو ہو رہا ہے جو حادثاتی طور پر اسقاط حمل کا شکار ہو جاتی ہیں کیونکہ ان پر جان بوجھ کر حمل گرانے کا شبہ کیا جاتا ہے اور انہیں قتل کے الزام میں قید بھی ہو سکتی ہے۔

گیلینڈا زیومارا کو تیس اکتوبر دو ہزار بارہ کی صبح پیٹ میں شدید درد ہوا۔ مشرقی سلواڈور کی رہائشی انیس سالہ زیومارا قریبی ہسپتال پہنچیں تو انہیں معلوم ہوا کے وہ اپنا بچہ کھو چکی ہیں۔

انہیں اسی روز معلوم ہوا کے وہ حمل سے تھیں کیونکہ ان کی ماہواری باقاعدگی سے جاری تھی، وزن میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی اور آخری مرتبہ کیا گیا حمل کا ٹیسٹ بھی منفی آیا تھا۔

چار دن کے بعد ان پر قتل کا الزام عائد کر دیا گیا، اپنے بیالیس ہفتے کے حمل کو دانستہ گرانے کا الزام۔ عدالت میں پیشی کے موقعے پر وہ بہت کمزور تھیں۔ جس ہسپتال میں وہ علاج کے لیے گئی تھیں وہیں سے ان کے خلاف اسقاطِ حمل کے شبہے میں شکایت کی گئی تھی۔ دو آپریشنز اور تین ہفتے ہسپتال میں گذارنے کے بعد انہیں جیل منتقل کر دیا گیا اور گذشتہ ماہ انہیں دس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ وہ اپنے بچے کو بچا سکتی تھیں۔

ان کے وکیل ڈینس مونز کا کہنا ہے کہ ’یہاں کے قانون میں ہی جرم کا قیاس موجود ہے جس کی وجہ سے عورتوں کے لیے خود کو بے قصور ثابت کرنا نہایت دشوار ہے۔‘

زیومارا کے والد نے عدالتی فیصلے کو ’خوفناک ناانصافی‘ قرار دیا ہے۔

ایل سلواڈور ان پانچ ممالک میں سے ایک ہے جہاں اسقاطِ حمل پر مکمل پابندی ہے۔ دیگر ممالک میں نیکراگوا، چلی، ہنڈیورس اور ڈومینیکن ری پبلک شامل ہیں۔ انیس سو اٹھانوے کے بعد سے یہ قانون ان خواتین کو بھی بری الذمہ قرار نہیں دیتا جن کا ریپ کیا گیا ہو یا جن کی زندگی کو خطرہ ہو ، حتٰی کے اگر حمل میں شدید قسم کی خرابی بھی ہو۔

Image caption ماریہ ٹریسا کو چالیس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

اسقاط حمل کو جرم قرار دینے کے خلاف کام کرنے والی ایک تنظیم کی تحقیق کے مطابق سنہ دو ہزار سے سنہ دو ہزار گیارہ تک دو سو خواتین کے خلاف شکایت درج کروائی گئی۔ ان میں سے ایک سو انتیس کے خلاف مقدمہ چلا اور انچاس کو سزا ہوئی جن میں سہ چھبیس کو قتل کے جرم میں بارہ سے پینتیس سال سزا ہوئی جبکہ تیئس کو ابارشن کے الزام میں سزا دی گئی۔

تحقیق کے مطابق زیادہ تر خواتین انتہائی غریب، غیر شادی شدہ اور ناخواندہ تھیں اور ان کے خلاف مقامی سرکاری ہسپتالوں کے عملے نے شکایت درج کروائی جبکہ کسی نجی ہسپتال سے کوئی شکایت سامنے نہیں آئی حالانکہ ایسا کہا جاتا ہے وہاں ہر سال ہزاروں ابارشن ہوتے ہیں۔

گذشتہ برس ماریہ ٹریسا ریویرا نامی ایک خاتون کو بھی حادثاتی اسقاطِ حمل سے گزرنا پڑا جس کی پاداش میں انہیں چالیس سال قید کی سزا سنائی گئی۔

زیومارا کی طرح اٹھائیس سالہ ٹریسا کو بھی اپنے حمل کے بارے میں علم نہیں تھا۔ ایک دن انہیں شدید درد کے ساتھ خون آنے لگا اور جس ہسپتال میں ہنگامی مدد کے لیے پہنچیں وہیں سے ان کے خلاف شکایت کر دی گئی۔

کرسٹینا کوینٹانیلا کی کہانی ذرا مختلف ہے۔ اکتوبر دو ہزار چار میں اٹھارہ سالہ کرسٹینا کا حمل سات مہینے کا تھا۔ یہ ان کا دوسرا بچہ تھا وہ زچگی کے لیے اپنی ماں کے ہمراہ دارالحکومت کے ایک ہسپتال کے قریب ہی رہائش پذیر تھیں۔

Image caption کرسٹینا چار سال اپنے بیٹے سے الگ جیل میں رہیں جو نانی کے پاس رہا۔

ان کا بوائے فرینڈ امریکہ میں تھا اور وہ بچے کے لیے خوشی خوشی خریداری کر رہے تھے۔ کرسٹینا بتاتی ہیں کہ ’مجھے آدھی رات کو شدید درد ہوا۔ مجھے لگا میں مر رہی ہوں۔‘

’میں غسل خانے کے دروازے کو زور زور سے پیٹ رہی تھی کہ میری ماں کو آواز پہنچ جائے اور تبھی مجھے لگا بچہ باہر گر گیا ہے۔ اس کے بعد مجھے ہسپتال میں ہوش آیا‘۔

ان کی والدہ کے روایتی انداز میں مدد کے لیے فوراً پولیس کو فون کیا جو انہیں ہسپتال لے گئی۔ کرسٹینا کے ہوش میں آتے ہی ان سے تفتیش کی گئی اور انہیں ہسپتال کے بستر پر ہی ہتھکڑی لگا دی گئی۔ ان پر قتل کا الزام لگا اور انہیں جیل منتقل کر دیا گیا۔

پہلے جج نے ان کے خلاف مقدمہ خارج کر دیا لیکن استغاثہ نے دوبارہ قتل کے سنگین الزامات عائد کیے جس پر انہیں تیس سال قید کی سزا سنائی گئی۔ وہ بچے کی قاتلہ کی پہچان کے ساتھ رُسوا ہوتی رہیں۔ ان کے بیٹے ڈینیئل نے چار سال ان کے بغیر اپنی نانی کے ساتھ گذارے اور پھر وکیل ڈینس مونز ان کی سزا کم کروا کے تین سال تک لانے میں کامیاب ہو گئے۔

کرسٹینا کہتی ہیں ’میڈیکل رپورٹس یہ واضح نہیں کر سکتیں کہ بچہ کیوں مرا لیکن استغاثہ نے مجھے ایک مجرم بنا دیا جو شاید اپنے بچے کو بچا سکتی تھی، حالانکہ میں خود تکلیف سے گذر رہی تھی‘۔

’میں یہ کبھی سمجھ نہیں سکوں کی گے انہوں نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا؟ میں نے اپنی زندگی کے چار سال کھو دیے اور میں آج بھی نہیں جانتی کہ میں نے اپنا بچہ کیوں کھویا تھا‘۔

ابارشن کو جرم قرار دینے کے خلاف کام کرنے والی تنظیم سے وابستہ مورینا ہیریرا کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات نے بہت منفی اثرات چھوڑیں ہیں، کئی خواتین جنہیں حمل کے دوران مسائل کا سامنا ہوتا ہے یا جن کا حادثاتی اسقاط حمل ہو جاتا ہے وہ علاج یا مدد کے لیے ہسپتال جانے سے ڈرتی ہیں۔

وزراتِ صحت کے اعداد وشمار کے مطاق سال دو ہزار گیارہ میں دس سے انیس سال کی لڑکیوں میں موت کی ایک بڑی وجہ خودکشی تھی۔ اور خود کشی کرنے والی ان لڑکیوں میں سے نصف حاملہ تھیں۔

اسی بارے میں