شام: اقوام متحدہ کی دمشق کے نواح میں جنگ بندی کی اپیل

Image caption معضمیہ سے گذشتہ اتوار کو تیس ہزار افراد کو ریڈ کراس نے محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔

اقوامِ متحدہ نے شام کے دارالحکومت دمشق کے مضافات میں باغیوں کے زیرِ تسلط علاقے معضمیہ میں جنگی صورتِحال کے فوری خاتمے کی اپیل کی ہے۔

اقوامِ متحدہ میں انسانی فلاح کے ادارے کی سربراہ ویلری ایموس کا کہنا ہے کہ گذشتہ اتوار کو تیس ہزار افراد اس علاقے سے محفوظ مقامات کی طرف منتقل کیے گئے لیکن اتنی ہی تعداد میں لوگ اب بھی شیلنگ اور لڑائی کے باعث وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔

’کوئی فریق جیت نہیں سکتا‘، ایران کی ثالثی کی پیشکش

شامی تنازعے میں جرمنی ثالثی کر سکتا ہے: بشار الاسد

فتوے میں کتے، بلیوں اور گدھے کا گوشت کھانے کی اجازت

ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک بھر کے کئی دوسرے قصبوں میں بھی لوگ اسی طرح کی صورتحال میں گھرے ہوئے ہیں۔

شامی فوج اس سے پہلے کہہ چکی ہے کہ باغیوں کے زیرِ تسلط علاقوں میں لوگوں کو ہتھیار ڈالنے ہوں گے ورنہ وہاں خوراک کی کمی ہو جائے گی۔

سنیچر کو انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا تھا جرمانا نامی قصبے کے عیسائی اکثریتی علاقے میں ایک چوکی کے قریب ہونے والی لڑائی اور ایک خود کش حملے میں سولہ فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔

سرکاری میڈیا نے اس حملے کا الزام ’دہشت گردوں‘ پر عائد کیا تاہم واقعے کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

دمشق کے بیشتر نواحی علاقوں پر باغیوں کا کنٹرول ہے تاہم جرمانا میں عیسائی اور دروز برادری کی اکثریت ہے جو صدر بشار الاسد کے حامی ہیں۔ یہ علاقہ تاحال حکومت کے کنٹرول میں ہے۔

ایک بیان میں ویلیری ایموس کا کہنا تھا کہ ’شام کے مختلف علاقوں میں بدلتے ہوئے حالات کے باعث وہ بہت پریشان ہیں جہاں عام عورتوں ، بچوں اور مردوں کو فریقین کی جانب سے ظالمانہ رویے اور خوفناک تشدد کا سامنا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا امدادی کارکن کئی مہینوں سے معضمیہ تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے اور وہاں جاری مسلسل لڑائی کسی بھی امدادی مشن کو وہاں جانے سے روک رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا ’میں فریقین سے سے مطالبہ کرتی ہوں کے وہ فوری طور پر معضمیہ میں جاری تمام تر لڑائیاں روک دیں اور امدادی تنظیموں کو بلا روک ٹوک وہاں جانے کی اجازت دیں تاکہ وہاں رہ جانے والہ شہریوں کو وہاں سے منتقل کیا جا سکے اور علاقے میں جان بچانے کا سامان اور ادویات پہنچائی جا سکیں‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ صرف یہی ایک علاقہ نہیں ہے کہ جس کے بارے میں انہیں تشویش ہے، نبل، زہرہ، قدیم حلب قصبہ اور قدیم حمص قصبہ ان علاقوں میں شامل ہیں جہاں لوگوں کو خطرہ ہے۔

ان کا کہنا تھا’ شہریوں کو حملے کے خطرے سے آزاد ہو کر محفوظ مقامات کی طرف جانے کی اجازت ہونی چاہیے‘۔

’یہ ضروری ہے کہ لڑائی میں شریک تمام گروہ عالمی طور پر تسلیم شدہ انسانی حقوق اور انسانی فلاح کے قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا احترام کریں تاکہ شہریوں کا تحفظ ممکن ہو اور غیر جانبدار اور معتدل امدادی تنظیموں کو شام میں کہیں بھی ضرورت مند لوگوں تک رسائی دی جائے‘۔

دمشق کے نواحی علاقوں معضمیہ اور دیگر دو علاقے یرموک اور مشرقی گھوتا کئی ماہ سے شامی فوج کے حصار میں ہیں۔

شام میں صورتحال اس وقت انتہائی پریشان کن ہوگئی تھی جب اس ہفتے کے اوائل میں مسلم علماء نے فتویٰ جاری کیا تھا کہ علاقے کے لوگ فاقے سے بچنے کے لیے بلیوں، کتوں اور گدھوں کا گوشت کھا سکتے ہیں۔

اسی بارے میں