امریکہ: جعلی دستاویزات پر رہائی کے بعد دوبارہ گرفتاری

Image caption ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ جعلی دستاویزات کس نے جیل حکام کو فراہم کیے تھے

امریکہ میں حکام کے مطابق جعلی دستاویزات پر جیل سے رہائی حاصل کرنے والے قتل کے دو مجرمان کو دوبارہ حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ریاست فلوریڈا کی جیل سے رہائی حاصل کرنے والے چونتیس سالہ جوزف جینکنز اور چارلز واکر کو پاناما سٹی کے ایک ہوٹل سے گرفتار کیا گیا ہے۔

اس سے پہلے ان دونوں افراد کے اہلخانہ نے ایک پریس کانفرس میں ان سے اپیل کی تھی کہ وہ واپس آ جائیں اور اس پریس کانفرس کے چند گھنٹے بعد ہی دونوں کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔

دونوں مجرموں کو اس وقت رہائی ملی تھی جب حکام نے ان کے جعلی رہائی نامے دیکھے جن میں ان کی سزا کم کرنے کا ذکر تھا۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ جعلی دستاویزات کس نے جیل حکام کو فراہم کیے تھے۔

فلوریڈا کے حکام کا کہنا ہے کہ ان غلطیوں کے پیش نظر اب قیدیوں کی رہائی کے طریقہ کار کو تبدیل کیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق اب قیدیوں کو وقت سے پہلے رہا کرنے کی تصدیق کلرکوں کی بجائے جج کریں گے۔

حکام اب وقت سے پہلے رہائی کے عدالتی حکم ناموں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کسی مجرم کو غلطی سے جلد رہائی نہیں سکے۔

امریکہ میں قیدی کی قبل از وقت رہائی کی دستاویزات کی جانچ پڑتال میں کئی ہفتے لگ جاتے ہیں۔

اسی بارے میں