کروڑوں کی جاسوسی

Image caption میکسیکو نے امریکی صدر براک اوباما پر زور دیا کہ وہ ان الزامات کی مکمل تحقیقات کرائیں

فرانس نے امریکہ سے ان خبروں پر وضاحت طلب کی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے مبینہ طور پر فرانس میں لاکھوں فونز کو خفیہ طور پر ٹیپ کیا۔

فرانسیسی وزیرِ خارجہ لورینٹ فیبیئس نے امریکی سفیر کو طلب کر کے اس معاملے پر بات کی ہے اور فرانس کا کہنا ہے کہ اتحادی ممالک سے ایسا سلوک ’ناقابلِ قبول‘ ہے۔

جاسوسی پر لاطینی ممالک کا امریکہ سے جواب طلب

واضح رہے کہ فرانسیسی اخبار لی مونڈ میں یہ خبر شائع ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی ادارے این ایس اے نے مبینہ طور پر فرانس میں کروڑوں فون کالز ٹیپ کی ہیں۔

فرانسیسی اخبار کے مطابق امریکی اہل کار ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے افشا کی گئی دستایزات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ این ایس اے نے گزشتہ برس دس دسمبر سے رواں برس آٹھ جنوری کے درمیان سات کروڑ تیس لاکھ فون کالوں کی نگرانی کی۔

فرانسیسی وزیر داخلہ مینوئل والس کا کہنا ہے کہ یہ ’انکشاف حیرت انگیز‘ ہے۔

اس سے قبل میکسیکو نے امریکہ کی طرف سے مبینہ طور پر ملک کے سابق صدر کی ای میلز ہیک کرنے کے اقدامات کی شدید مذمت کی تھی۔

امریکی ادارے نیشنل سکیورٹی ایجنسی کی طرف سے مبینہ طور پر میکسیکو کے سابق صدر فلپ کالڈرن کی ای میلز کو ہیک کرنے کی خبروں پر میکسیکو نے امریکی اقدامات کی مذمت کی ہے۔

جرمن رسالے شپیگل کی رپورٹ کے مطابق سابق امریکی اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے افشا کی گئی معلومات سے پتہ چلا ہے کہ 2010 میں میکسیکو کے سابق صدر کی ای میلز ہیک کی گئی تھیں۔

میکسیکو کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ اس قسم کی جاسوسی ’ناقابلِ قبول اور غیر قانونی‘ ہے۔

وزارتِ خارجہ نے امریکی صدر براک اوباما پر زور دیا کہ وہ ان الزامات کی تحقیقات کرائیں۔

ایک سرکاری بیان میں میکسیکو کی وزارتِ خارجہ نے بیان میں کہا ہے کہ ’ہمسائیوں اور شراکت کاروں کے درمیان اس قسم کے سرگرمیوں کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔‘

واضح رہے کہ اس سے قبل رپورٹوں میں یہ عندیہ دیاگیا گیا تھا کہ نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے میکسیکو کے موجودہ صدر اینریکے پینیا نائی ایٹو کا عہدے سنبھالنے سے پہلے ان کے اور برازیل کی صدر دلما روسیف کے درمیان بات چیت سنی گئی تھی۔

گذشتہ مہینے جی ٹوئنٹی کے اجلاس میں امریکی صدر براک اوباما نے میکسیکو اور برازیل کے صدور کی جاسوسی کرنے کے اقدامات کی تحقیقات کرانے کا وعدہ کیا تھا۔

میکسیکو کے صدر اینریکے پینیا نائی ایٹو نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’میں نے صدر براک اوباما سے اس معاملے کی مکمل تحقیقات کرانے کا وعدہ لیا ہے اور اگر یہ الزامات سچ ثابت ہوئے تو وہ ضروری پابندیاں عائد کریں گے۔‘

یہ الزامات امریکی راز افشا کرنے والے ایڈورڈ سنوڈن کی طرف سے افشا کی گئی دستاویزات کی بنیاد پر بھی لگائے گئے ہیں۔

اسی بارے میں