روس: وولگوگراد شہر میں چلتی بس میں خود کش حملہ

Image caption بس کے پیچھے چلنے والی ایک کار نے دھماکے کی ویڈیو محفوظ کی جس کا ایک منظر اس تصویر میں ہے

جنوبی روس کے شہر وولگوگراد میں ایک بس میں کیے گئے مشتبہ خودکش حملے میں چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

حکام کا خیال ہے کہ مشتبہ خود کش حملہ شمالی کوِ قاف کی ریاست داغستان سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے کیا جو ایک اسلامی شدت پسند کی ساتھی تھی۔

مقامی وقت کے مطابق دن میں دو بجے کے قریب کیے گئے اس حملے میں 30 سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے ہیں، جس میں کچھ لوگوں کی حالت بہت تشویشناک ہے۔

شمالی کوہِ قاف کے علاقے میں اسلامی شدت پسندوں کی دراندازی کے بعد وہاں گزشتہ کچھ برسوں میں ایسے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

ماسکو میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار اسٹیو روسنبرگ کا کہنا ہے کہ اس حملے کے بعد اس بات کی بھی خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ شدت پسند گروہ اگلے سال سوچی میں ہونے والے سرمائی اولمپکس کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

بتایا جا رہا ہے کہ دھماکے سے پہلے بس میں 40 افراد سوار تھے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ وولگوگراد میں چلنے والی تمام بسوں کی تلاشی کے واپس ان کے اڈوں پر بلا لیا گیا ہے۔

حادثہ کے وقت بس کے پیچھے اپنی گاڑی میں جانے والے ایک شخص نے روسيا 24 ٹیلی ویژن کو بتایا ’بہت تیز دھماکہ تھا اور اس کے ساتھ ہی کھڑکیوں کے شيشے ٹوٹ کر گرنے لگے۔ دھویں کا غبار کچھ ہی دیر میں بیٹھ گیا اور لوگ بس سے اتر اتر کر بھاگنے لگے۔ بہت ڈراؤنا منظر تھا۔‘

دھماکے میں زندہ بچ جانے والی ایک بچی نے ماسکو ریڈیو کو بتایا ’دھماکہ کافی طاقتور تھا اور بس میں کافی طالب علم سوار تھے۔‘

روس میں حالیہ کچھ سالوں میں بلیک وڈو گروپ کے نام سے مشہور خودکش خواتین دستوں نے کئی شدت پسند وارداتوں کو انجام دیا۔ انہیں اکثر اسلامی شدت پسندوں سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے جن کی موت کا بدلہ لینے کے لئے یہ حملے کرتی ہیں۔