’ڈبل ٹیپ ڈرون حملے میں بچانے والے مرتے ہیں‘

Image caption محمد ناظر کے فرزند کی سنہ 2006 میں شمالی وزیرستان میں ہوئے ایک ڈرون حملے میں موت ہو گئی تھی

ڈرونز کو عام طور پر ان کے درست حملوں کے لیے سراہا جاتا ہے لیکن کبھی کبھی مشین اور ان کے چلانے والے انسانوں سے غلطیاں بھی سرزد ہو جاتی ہیں۔

یہ باتیں انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی دو نئی رپورٹوں میں کہی گئی ہیں۔

شام کے جھٹپٹے میں شمالی وزیرستان کے ایک گاؤں زوئی سدگی میں چھ جولائی 2012 کو میزائل کے پہلے راؤنڈ داغے گئے تھے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مصطفیٰ قادری کے مطابق وہاں کان کنون اور لکڑہاروں کی ایک مختصر سی جماعت رات کے کھانے کے لیے جمع تھی۔

حملے سے خیمے میں آگ لگ گئی اور ان مزدوروں کے خاندان والے اور دوست ان کی امداد کو دوڑ پڑے۔لیکن اسی دوران دوسرا ڈرون حملہ ہو گیا۔ جو لوگ اپنے رشتے داروں اور دوستوں کی امداد کے لیے آئے تھے ان میں سے بھی کئی مارے گئے۔

ان دو حملوں میں کل 18 افراد مارے گئے۔ مرنے والوں میں ایک 14 سال کا لڑکا بھی شامل تھا۔ قادری کے مطابق زوی سدگی کا حملہ مخصوص قسم کے حملوں میں شامل ہے جو دو مراحل میں کیا گیا تھا۔

اس طرح کے حملوں کے لیے امریکہ متواتر کئی راؤنڈ کے حملے پر یقین رکھتا ہے۔ اس میں میزائل داغے جاتے ہیں اور لوگ مرتے ہیں۔ چند لمحے بعد جب اس علاقے کے لوگ جائے وقوع پر زخمیوں کی امداد کو پہنچتے ہیں تو پھر دوسرا حملہ کیاجاتا ہے۔

صحافی اس طرح کے حملے کو ’ڈبل ٹیپ‘ یعنی دوہرے حملے سے تعبیر کرتے ہیں اور ان کا اکثر و بیشتر استعمال ہوتا ہے۔

قادری نے کہا: ’ایسا لگتا ہے کہ یہ حملہ ان لوگوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا جاتا ہے جو زخمیوں کی امداد کے لیے دوڑے آتے ہیں اور یہ بہت افسوس ناک ہے۔‘

امریکی حکام نے اس حملے یا پاکستان میں اسی قسم کے دوسرے ڈرون حملوں کے بارے میں قادری کی تحقیقات پر کسی قسم کا ردِعمل دینے سے انکار کیا ہے۔

ان کی یہ تحقیق ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جاری کردہ نئی رپورٹ میں شامل ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے واشنگٹن میں فورٹ میک نائر میں اپنی مئی کی تقریر میں پاکستان اور دوسرے ممالک میں کیے جانے والے ڈرون حملوں کو ’موثر‘ اور ’قانونی‘ قرار دیا ہے۔

انھوں نے کہا: ’کسی بھی حملے سے قبل اس بات کی تقریباً یقین دہانی کر لی جاتی ہے کہ اس میں کوئی بھی شہری ہلاک یا زخمی نہ ہو اور یہ اعلیٰ ترین معیار ہے جو ہم طے کر سکتے ہیں۔‘

Image caption پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج اور مظاہرے ہوتے رہتے ہیں

انسانی حقوق کی ایک دوسری عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے یمن میں ڈرون حملوں پر رپورٹ جاری کی ہے۔ اس رپورٹ کے لیے ہیومن رائٹس واچ کے محققوں نے چھ ڈرون حملوں کی جانچ پڑتال کی ہے جو سنہ 2009 سے 2013 کے درمیان ہوئے تھے۔

محققوں کا دعوی ہے کہ ان میں سے دو حملے جنگی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں کیونکہ ان میں صرف شہری نشانہ بنے تھے یا پھر اندھا دھند فائرنگ کرنے والے اسلحے کا استعمال ہوا تھا۔

نیو امریکہ فاؤنڈیشن کے مطابق گذشتہ ایک دہائی کے دوران یمن میں امریکی ڈرون حملوں میں 640 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ اسی عرصے میں پاکستان میں ڈرون حملوں میں 2065 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں بیشتر افراد جنگجو تھے لیکن بعض اوقات غلط افراد کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

سابق امریکی کنٹریکٹر ایڈورڈ سنوڈن کے مطابق امریکی ان حملوں کے لیے اپنی خفیہ ایجنسیوں سی آئی اے، نیشنل سکیورٹی ایجنسی اور دیگر امریکی ایجنسیوں کی معلومات پر بھروسہ کرتی ہیں۔

اس بابت جب بی بی سی نے سی آئی اے کے حکام سے رابطہ کیا تو انھوں نے کسی قسم کا ردعمل ظاہر کرنے سے انکار کر دیا۔

اسی بارے میں