لیبیا کے اللیبی کی نیویارک عدالت میں پیشی

Image caption ابو انس اللیبی کے نیویارک کی عدالت میں پیشی کے منظر کا سکیچ

اس مہینے ایک امریکی چھاپے میں پکڑے جانے والے لیبیا کے مشتبہ شدت پسند رہنما ابو انس اللیبی کو دوسری بار نیویارک کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔

لیبیا سے تعلق رکھنے والے ابو انس اللیبی کے مقدمے سے منسلک ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ عدالت میں ایک وکیل نے ابو انس کی پیروی کی۔ ان کی فیس لیبیا کی حکومت نے دی ہے۔

انس اللیبی پر الزام ہے کہ وہ القاعدہ سے وابستہ ہیں اور سنہ 1998 میں مشرقی افریقہ میں امریکہ کے سفارت خانوں پر ہونے والے حملوں میں ملوث ہیں۔

اللیبی نے اپنے اوپر عائد کیے گئے دہشت گردی کے الزامات کی تردید کی ہے۔

49 سالہ ابو انس کا اصل نام نزیہ عبدالحمید الرقیعی ہے اور وہ عدالت میں اپنے قانونی مشیر سے بات چیت کرنے کے لیے حاضر ہوئے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل عدالت میں گذشتہ پیشی کے دوران عدالت کی جانب سے مقرر کیے گئے سرکاری وکیل نے ان کی نمائندگی کی تھی کیونکہ انھوں نے کہا تھا کہ وہ اپنے طور پر وکیل کی فیس دینے کے اہل نہیں ہیں۔

بی بی سی کی ندا توفیق سے بات کرتے ہوئے اس مقدمے سے منسلک ذرائع نے بتایا کہ لیبیا کی حکومت نے عدالت میں ان کی نمائندگی کے لیے سرکاری طور پر ایک وکیل کی خدمات لینے کا فیصلہ کیاہے۔

ان کے وکیل برنارڈ کلین مین نے اس بات کی تصدیق کرنے سے انکارکر دیا کہ انھیں کس نے اس کام پر مامور کیا ہے۔

مسٹر کلین مین نے عدالت سے کہا کہ اس مقدمے کی کاروائی شروع ہونے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں کیونکہ اس میں ہزاروں صفحات پر مشتمل دستاویزات کا مطالعہ شامل ہے۔

Image caption 49 سالہ اللیبی ایف بی آئي کو مطلوب ترین افراد کی فہرست میں شامل ہیں اور ان پر 50 لاکھ امریکی ڈالر کا انعام ہے

انھوں نے عدالت سے یہ درخواست بھی کی کہ مسٹر انس اللیبی کی ذاتی قرآن مجید کی کاپی انہیں لوٹا دی جائے جسے انھیں پکڑے جانے کے دوران ضبط کر لیا گیا تھا۔

کلین مین نے یہ بھی بتایا کہ وہ پہلی بار انس اللیبی سے منگل کے روز ہی ملے ہیں۔

انھوں نے جج سے کہا کہ وہ کیوبا کے گوانتانامو میں امریکی قید خانے کے کم از کم ایک قیدی کی نمائندگی کے لیے آئے ہیں۔

عدالت نے اللیبی کی عدالت میں پیشی کی اگلی تاریخ 12 دسمبر طے کی ہے۔

دوسری جانب لیبیا میں پانچ اکتوبر کو ہونے والے امریکی کمانڈو حملے کے خلاف غصہ پایا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ اس حملے کو لیبیا کی خودمختاری کی خلاف ورزی گردانتے ہیں۔

لیبیا کے وزیر اعظم علی زیدان کا کہنا ہے کہ ان کے شہری پر لیبیا میں ہی مقدمہ چلایا جانا چاہیے لیکن اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ تریپولی اور واشنگٹن کے تعلقات اس مسئلے سے متاثر نہیں ہوں گے۔

ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ پہلے مسٹر اللیبی کو پوچھ گچھ کے لیے امریکی بحریہ کے جہاز پر رکھا گیا تھا لیکن جب ان کی صحت گرنے لگی اور انھوں نے کھانا پینا چھوڑ دیا تو انہیں امریکہ لے جایا گیا۔

واضح رہے کہ مسٹر اللیبی امریکی تفتیشی ایجنسی ایف بی آئی کو مطلوب ترین افراد کی فہرست میں شامل ہیں اور ان پر 50 لاکھ امریکی ڈالر کا انعام ہے۔

نیویارک کی گرینڈ جیوری نے 2000 میں اللیبی پر فردِ جرم عائد کی تھی۔

اسی بارے میں