جنابِ صدر دال قیمہ آپ کا منتظر ہے!

Image caption نواز شریف نے براک اوباما کو دورۂ پاکستان کی دعوت دی

امریکی صدر براک اوباما سے وزیر اعظم میاں نواز شریف کی ملاقات ویسے تو کئی حوالوں سے اہم تھی مگر اس ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں دونوں سربراہان کی پریس سے گفتگو میں کافی دلچسپ باتیں موجود تھیں۔

صدر اوباما نے اپنی ساری بات فی البدیہہ کی مگر میاں نواز شریف ایک کاغذ پر اپنے نوٹس لکھ کر لائے اور انہیں پڑھ کر ہی بات کرتے رہے اور آخر میں تو کاغذ پلٹتے پلٹتے وہ مسز اوباما کو مسٹر اوباما کہہ گئے مگر جلد ہی انہوں نے اپنی غلطی درست کی۔

صدر اوباما نے اپنی گفتگو کے آخر میں کہا کہ ’میں نے میاں نواز شریف سے یہ بات شیئر کی جب مجھے 1980 میں پاکستان جانے کا موقع ملا جب میں ایک نوجوان تھا کیونکہ میرے کمرے میں رہنے والے دو کالج فیلوز پاکستانی تھے۔ جن کی والدہ نے مجھے دال اور قیمہ پکانا سکھایا اور بہت سارے اچھے پاکستانی کھانے بھی۔‘

صدر اوباما نے کہا کہ ’میرے لیے یہ سفر بہت زبردست تھا اور اس سے میری پاکستانی عوام کے لیے محبت پیدا ہوئی۔‘

میاں نواز شریف نے اپنی گفتگو کے آخر میں صدر اوباما کی مہمان نوازی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کے قیمہ اور دال کے ذکر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’میں آپ کا شکر گذار ہوں اور آپ کو اور مسز اوباما کو پاکستان میں خوش آمدید کہنے کا منتظر ہوں اور قیمہ اور دال آپ کے منتظر ہیں۔‘

اس پریس کانفرنس کے بعد سوشل میڈیا پر بھی اس مکالمے کا ذکر چھڑا اور اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ماروی سرمد نے ٹویٹ کی کہ ’بھاڑ میں جائے عافیہ کا معاملہ اور ڈرون، دال قیمہ آپ کا منتظر ہے‘۔

ملیحہ منظور نے ٹویٹ میں لکھا کہ ’پیارے امریکہ آپ ہم پر ڈرون حملے کرتے ہیں اور ہم آپ کو دال قیمہ پیش کر رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں