ڈرون حملوں کی توثیق: ’اگر پہلے ایسے تھا تو اب نہیں ہے‘

Image caption امریکی اخبار کے مطابق پاکستان کے قبائل علاقوں میں ڈرون حملے ایک ایسا راز ہے جس کو نہ تو واشنگٹن اور نہ ہی اسلام آباد نے موزوں طریقے سے راز رکھا

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان اعزاز چودھری نے کہا ہے کہ اگر ماضی میں پاکستان کی حکومتوں نے ڈرون حملوں پر رضامندی ظاہر کی بھی تھی بھی، تو اب ایسا نہیں ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی حکام نے نہ صرف کئی برسوں سے امریکی ڈرون حملوں کی توثیق کی ہے بلکہ انہیں ان حملوں اور ان میں ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں بریفنگ بھی دی جاتی رہی ہے۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان اعزاز چوہدری نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ حکومتِ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ ڈرون حملے رکنے چاہیں۔’ماضی کی حکومتوں کے درمیان جو بھی مفاہمت اور اتفاق ہوا ہو، موجودہ حکومت نے اس معاملے پر اپنی پالیسی واضح کی ہے۔‘

ترجمان نے کہا کہ ڈرون حملے نہ صرف بین الاقومی قوانین اور پاکستان کی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں، بلکہ جس مقصد کے لیے ڈرون حملے کیے جاتے ہیں، نتیجہ اس کے برعکس آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم نواز شریف نے امریکہ کے دورے کے دوران امریکی صدر اور دیگر سینئر اہلکاروں سے ملاقات میں ڈرون حملوں کے خلاف آواز اٹھائی۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی حکام نے نہ صرف کئی برسوں سے امریکی ڈرون حملوں کی توثیق کی ہے بلکہ انہیں ان حملوں اور ان میں ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں بریفنگ بھی دی جاتی رہی ہے۔

اخبار نے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی دستاویزات کے حوالے سے یہ خبر ایسے وقت میں شائع کی ہے جب پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر براک اوباما سے ملاقات میں پاکستانی سرزمین پر ڈرون حملوں کا سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

پاکستان امریکہ سے اپنے قبائلی علاقوں میں ہونے والے ڈرون حملوں پر سرکاری طور پر احتجاج کرتا رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ حملے اس کی خودمختاری اور سالمیت کی خلاف ورزی ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یہ فائدے کی بجائے نقصان کا سبب بن رہے ہیں۔

اخبار کے مطابق سی آئی اے کی خفیہ دستاویزات میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں درجنوں ڈرون حملوں کا ذکر کیا گیا ہے اور ان کے ساتھ نقشے اور حملے سے قبل اور بعد کی تصاویر بھی ہیں۔ یہ دستاویزات ان حملوں سے متعلق ہیں جو سنہ 2007 سے 2011 تک کیے گئے۔ یہ وہ عرصہ تھا جب ڈرون حملوں میں تیزی آئی تھی۔

ان دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں سی آئی اے کے انسدادِ دہشت گردی کے مرکز نے خاص طور پر حکومتِ پاکستان کو فراہم کرنے کے لیے تیار کیا تھا۔

امریکی اخبار کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے ایسا راز ہیں جس کو نہ تو واشنگٹن اور نہ ہی اسلام آباد نے موزوں طریقے سے راز رکھا اور ڈرون حملوں کے آغاز میں یہ طیارے پاکستانی فضائی اڈے سے اڑائے گئے۔

ان دستاویزات میں کم از کم 65 ڈرون حملوں کا ذکر کیا گیا ہے اور ان کو ’ٹاپ سیکرٹ‘ قرار دیا گیا ہے لیکن اس بارے میں پاکستان کو معلومات فراہم کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کے ترجمان نے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ دوسری جانب سی آئی اے کے ترجمان نے ان دستاویزات پر تبصرہ کرنے سے تو انکار کیا لیکن ان کے مستند ہونے پر شک نہیں کیا۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق دسمبر 2007 سے ستمبر 2008 تک 15 ڈرون حملوں کا ذکر کیا گیا ہے اور ماسوائے دو حملوں کے، تمام میں القاعدہ کے رہنماؤں کا بحیثیت ہدف ذکر کیا گیا ہے۔

خفیہ دستاویزات کے مطابق کئی ڈرون حملوں میں ہدف کے تعین میں پاکستانی حکام کے کردار کے شواہد ملتے ہیں۔ ایک دستاویز میں سنہ 2010 کی ایک انٹری ہے جس میں کہا گیا ہے ’یہ حملہ آپ کی حکومت کی درخواست پر کیا گیا ہے۔‘

کئی دستاویزات کو ’ٹاکنگ پوائنٹس‘ قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس وقت کے ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے مائیکل جے موریل اس وقت کے پاکستانی سفیر حسین حقانی کو متواتر بریفنگ دیا کرتے تھے۔ تاہم اس حوالے سے حسین حقانی نے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

ان دستاویزات سے امریکہ اور پاکستان کے درمیان عدم اعتماد بھی واضح ہے۔ کچھ دستاویزات میں ان اجلاسوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے جن میں سینیئر امریکی حکام بشمول اس وقت کے وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے پاکستانی حکام کے سامنے وہ رپورٹیں رکھیں جن کے مطابق پاکستان کے ان شدت پسند گروہوں کے ساتھ تعلقات ہیں جو امریکی فورسز پر حملوں میں ملوث ہیں۔

ان دستاویزات کے مطابق ایک موقعے پر ہلیری کلنٹن نے پاکستانی حکام کے سامنے موبائل فون اور تحریری شواہد رکھے جو شدت پسندوں کی لاشوں پر سے ملے تھے جن سے یہ بات واضح تھی کہ پاکستانی حکومت ان کی مدد کر رہی تھی۔

اس ضمن میں 20 ستمبر 2011 کی ایک پاکستانی سفارتی کیبل میں کہا گیا ہے ’امریکہ کے پاس شواہد ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آئی ایس آئی کے ان گروہوں کے ساتھ تعلقات ہیں۔‘

امریکی اخبار کے مطابق 2010 میں پاکستانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کو ایک میمو بھیجا گیا جس میں لکھا تھا ’یہ ان 36 امریکی شہریوں کی فہرست ہے جو سی آئی اے کے خصوصی ایجنٹ ہیں اور کسی خاص ٹاسک کے لیے وہ پاکستان آئیں گے۔ ان کو ویزا نہیں دینا۔‘

اسی بارے میں