ترکی میں پہلی ’حلال‘ سیکس شاپ

Image caption ویب سائٹ کے بانی کا کہنا ہے کہ انھوں نے ویب سائٹ کے ڈیزائن میں مذہبی حساسیت کو مدِنظر رکھا ہے

ترکی میں ایک آن لائن سیکس شاپ کھولی گئی ہے جس کے بانی کا دعویٰ ہے کہ یہ اسلامی دنیا کی پہلی ’حلال‘ سیکس شاپ ہے، جہاں تمام مصنوعات اسلامی اصولوں کے مطابق فروخت کی جاتی ہیں۔

حلال سیکس شاپ کی ویب سائٹ کھلتے ہی ایک مرد اور عورت کے ہیولے نظر آتے ہیں۔ عورت نے سر پر سکارف اوڑھا ہوا ہے۔

اس ویب سائٹ پر زنانہ اور مردانہ حصے الگ الگ ہیں، جہاں انواع و اقسام کے کنڈوم، مساج کے تیل، سپرے اور خوشبوئیں دستیاب ہیں۔

قدامت پرست یہودیوں کے لیے سیکس گائیڈ

ایمسٹرڈیم اب سیکس شاپس نے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے

سائٹ کے بانی 38 سالہ ہلوک ڈیمیرل کہتے ہیں: ’دوسرے چاہے جو بھی کہیں، اسلام میں جنس بنیادی انسانی ضرورت ہے۔‘

’تاہم اس کے باوجود لوگ اور خاص کر خواتین ایسی ویب سائٹوں سے کوئی چیز خریدنا پسند نہیں کرتیں جو دیکھنے میں فحش ویب سائٹوں کی طرح لگیں۔ نہ ہی وہ مغربی انداز کی سیکس کی دکانوں میں جانا پسند کرتی ہیں۔ اس لیے میری آن لائن شاپ ایسی پرسکون جگہ فراہم کرتی ہے جہاں سے ہر کوئی اپنی فطری ضروریات کے مطابق مصنوعات آسانی سے تلاش کر سکتا ہے۔‘

اگرچہ ڈیمیریل کہتے ہیں کہ ان کی ویب سائٹ مسلم دنیا کی پہلی سیکس شاپ ہے جو اسلامی اصولوں کو مدِنظر رکھ کر بنائی گئی ہے، تاہم دنیا کی پہلی حلال سیکس شاپ نیدرلینڈ میں قائم کی گئی تھی۔

ڈیمیریل کے پاس حلال کا سرٹیفیکیٹ نہیں ہے، اس لیے وہ خودساختہ پڑتال کے ذریعے اس بات کی یقین دہانی کرتے ہیں کہ ان کی مصنوعات اسلامی اصولوں کے مطابق ہیں۔

وہ اس کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں: ’اسلام میں مشت زنی حرام ہے، اس لیے ہم وائبریٹر، گڑیائیں یا اس قسم کے خودلذتی والے دوسرے کھلونے فروخت نہیں کرتے۔‘

ڈیمیریل کو خاص طور پر امید ہے کہ خواتین ان کی ویب سائٹ میں کشش محسوس کریں گی جو روایتی ویب سائٹوں کی کھردری زبان سے بددل ہو جاتی ہیں۔ فی الحال ان کے گاہکوں کا 45 فیصد حصہ خواتین پر مشتمل ہے۔

انھوں نے وضاحت کی: ’ہم ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جو ملائم اور نفیس ہوں، نہ کہ فحش۔ مثال کے طور پر بجائے لفظ ’’شہوت انگیز‘‘ کے ہم ’’خواہش کن‘‘ استعمال کرتے ہیں۔ یہ جزئیات اہم ہیں۔‘

ترکی میں جنس پر عوامی گفتگو اب بھی خاصا پیچیدہ معاملہ ہے۔ بعض سیاست دان اس سے یکسر پہلوتہی کرتے ہیں۔

حال ہی میں ایک شاپنگ مال کے دورے میں ترکی کے وزیرِ اعظم رجب طیب اردغوان کو ’وکٹوریاز سیکرٹ‘ نامی دکان کے آگے سے گزرنا تھا جو خواتین کے زیر جامے فروخت کرتی ہیں۔

وزیرِ اعظم کے گزرنے سے پہلے مالکان نے چپکے سے دکان کے شٹر گرا دیے، اور یوں فریقین مشترکہ خجالت سے بچ گئے۔

ترکی میں کچھ لوگ حلال سیکس شاپ کے تصور پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کاروباری ذہنیت کے افراد اسلامی مصنوعات کے استعمال کے بڑھتے ہوئے رجحان کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

ترکی کا ایک کثیرالاشاعت اخبار لکھتا ہے: ’پہلے انھوں نے اسلامی فیشن ایجاد کیا، پھر اسلامی ہوٹل، اس کے بعد اسلامی تعطیلات، اور اب وہ جنسی مصنوعات کے شعبے میں بھی آ گئے ہیں۔‘

ترکی کے سوشل میڈیا پر بھی حلال سیکس شاپ کے موضوع پر دھواں دھار اور بعض اوقات فحش الفاظ سے اس قدر لیس بحث ہو رہی ہے کہ وہ یہاں نہیں دہرائی جا سکتی۔

اس بحث کا حلال سیکس شاپ کو فائدہ ہوا ہے۔ پہلے تو ویب سائٹ کو ملنے والی ٹریفک میں بے تحاشا اضافہ ہوا، اور پھر نوبت یہاں تک پہنچی کہ اب یہ ویب سائٹ صارفین کی بھاری تعداد کے بوجھ تلے دب کر کریش ہو گئی ہے۔

اسی بارے میں