چھوڑیے، بس رہنے دیجیے۔۔۔

ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو

یہ تصویر دیکھ کر اگر آپ کو بھی کوئی شعر یا مصرع یاد آیا ہو تو ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم اسے بھی ان صفحات پر شائع کریں گے۔

بوئے گل، نالۂ دل، دودِ چراغِ محفل

جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا

نعیم گل، اٹلی

کيسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ ديا ہے اس نے

بات تو سچ ھے مگر بات ہے رسوائی کی

تواب خان شاجی, اسلام آباد

کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملوگے تپاک سے

یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو

عبدالکلام، پٹنہ، بھارت

کوئی چارا ساز ہوتا، کوئی غم گسار ہوتا

مزمل افضل، کراچی

اب لوٹ کے آئے ہو تو گھر کیسا لگا ہے

ظفراللہ خان، اسلام آباد

کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

سلمان ظفر، نوشہرہ

بس انتہا ہے چھوڑیے بس رہنے دیجیے

خود اپنے اعتبار سے شرما گیا ہوں میں

محمد ذیشان بلوچ، راولپنڈی

سنبھلنے دے مجھے اے نااميدی کيا قيامت ہے

علی، کوئٹہ

آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں

ہم اگرعرض کریں گے تو شکایت ہوگی

فراز، ہالینڈ

نہ پوچھا جائے ہے اُس سے، نہ بولا جائے ہے مجھ سے

علی, کوئٹہ

مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ

شفیع، کیلیفورنیا، امریکہ

نظروں سے گرا ہوں تو نظر کیسے ملاؤں

سعد، دبئی، متحدہ عرب امارات

دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا

وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا

فضل عباس، ساہیوال، پاکستان

خدا ہم کو ايسی خدائی نہ دے

کہ اپنے سوا کچھ دکھائی نہ دے

خواجہ شفيق احمد سومرو, کراچی

کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا

تمہیں ياد ہو کے نہ ياد ہو

منصور احمد, کراچی

نہ ہونا بےمروت، نہ بےرخی دکھانا

بس سادگی سے کہہ دو، تم بوجھ بن گئے ہو

شوکت علی، کوئٹہ

شہزاد زخم کھا کے تیری بزم سے چلا

انداز بزم ِیار کے سارے بدل گئے

شہزاد راجپوت, ڈیرہ غازیخان

ایک پتھر ادھر آیا تو میں اس سوچ میں ہوں۔۔۔

سعدیہ بیگم, کراچی، پاکستان

اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں

اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں ميں

شکيل احمد ايڈووکيٹ, حضرو، پاکستان

یوں مسکرا کے مجھے دیکھ کر دھوکہ تو نہ دو

جانتا ہوں میں جو محبّت کی نظر ہوتی ہے

منصور بگٹی, ڈیرہ بگٹی

کبھی ہم میں تم میں قرار تھا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

شکیل احمد، ریاض، سعودی عرب

كون كہتا ہے کہ ہم معصوم بزدل لوگ ہیں

اْس نے تو ہر گھر سے اک قاتل برآمد کر لیا

رانا غلام مصطفى, رياض , سعودى عرب

اب کسے راہنما کرے کوئی

عقیل ناصر مرزا، سعودی عرب

خیال تھا کہ اسے شرمسار کرنا ہے

وہ مسکرا کے نئے وسوسوں میں ڈال گیا

طارق عزیز، خانیوال، پاکستان

بس انتہا ہے چھوڑیے بس رہنے دیجیے

خد اپنے اعتبار سے شرما گیا ہوں میں

فخر سجاد، جنوبی افریقہ

کبھی تو شہرِ ستمگراں میں کوئی محبت شناس آئے

وہ جس کی آنکھوں سے نور چھلکے، لبوں سے چاہت کی باس آئے

خلیق الرحمان، الخبر، سعودی عرب

اب آیا اونٹ پہاڑ کے نیچے

معین, نوشہرہ، پاکستان

ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

طاہر، چین

تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز

دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا

جنون, کوپن ہیگن، ڈنمارک

دوست کیا خوب وفاؤں کا صلہ دیتے ہیں

ہر نئے موڑ پہ اک زخم نیا دیتے ہیں

عمران علی، سعودی عرب

دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف

اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی

عامر سجاد, ماچھی گوٹھ پنجاب،پاکستان

تکلف کيا جو کھوئی جانِ شيريں پھوڑ کر سر کو

جو تھی غيرت تو پھر خسرو سے ہوتا کوہ کن بگڑا

انيس احمد, نيومارکيٹ، اونٹاريو، کينيڈا

تیرے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا

کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

خورشید، گوجرانوالہ

ہزار زخم سہو پھر بھی چپ رہو محسن

نہیں ضرور کہ یاروں کی نیّتیں پوچھو

عابدمجتبیٰ, کراچی،پاکستان

نہ مزہ ہے دشمنی میں، نہ ہے لطف دوستی میں.

کوئی غیر، غیر ہوتا. کوئی یار ، یار ہوتا

عابداللہ محمود, ریڈمنڈ، واشنگٹن

ہم کو ان سے وفا کی ہے امید

جو نہیں جانتے وفا کیا ہے

عابد، برمنگھم

دیکھا جو ہم نے مڑ کے تو پتھر کے ہوگئے . . .

عدنان, سعوی عرب، ریاض

ہميں تباہ کيا آب و گل کی سازش نے

کہ ايک دوست ہمارا بھی آسماں ميں ہے

عاطف لطیف، ٹورنٹو، کینیڈا

دیکھا جو بے رخی سے تو حیرت ہوئی مجھے

دنیا تو بےوفا تھی مگر تم کو کیا ہوا

علاؤالدین شاہ، چترال، پاکستان

میں انہیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیں

چل نکلتے جو مے پیے ہوتے

بہلیم رزاق، یوکوہاما، جاپان

نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن

بڑے بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے

وردہ، کراچی، پاکستان

شرم تم کو مگر نہیں آتی۔۔۔

قیصر خان، پاکستان

آ رہی ہے چاہِ یوسف سے صدا

دوست یاں تھوڑے ہیں اور بھائی بہت

شعیب، دینہ، پاکستان

آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کريں

ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی

عظیم اشرف، پاکستان

شرم سے نگاہيں جھکی جا رہي ہيں

يہ کيا ديکھتے ہو کہو جانے جاناں

جگا, لندن

آپ کی دشمنی قبول مجھے

آپ کی دوستی سے ڈرتا ہوں

مہر وحید، ووکنگ، سرے

جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے

خرم مراد، خانیوال، پاکستان

عمل ہی کچھ خراب تھے نظریں نہ مل سکیں

دیکھا جو اس نے غور سے شرمندہ کر دیا

محمد بشیر, ریاض سعودی عرب

ان بارشوں سے دوستی اچھی نہیں فراز

کچا ترا مکاں ہے کچھ تو خیال کر

اجمل خان, افغانستان، کابل

محبتوں میں عجب ہے دلوں کو دھڑکا سا

کہ جانے کون کدھر راستہ بدل جائے

عزیز عمر بھٹی، میلبرن، آسٹریلیا

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں

جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

ارجن کمار، کراچی

یہ تمہاری تلخ نوائیاں کوئی اور سہہ کے دکھا تو دے

یہ جو ہم میں تم میں نباہ ہے میرے حوصلے کا کمال ہے

مدثر عالم، ساؤتھمپٹن، برطانیہ

کام اس سے آ پڑا ہے کہ جس کا جہان میں

لیوے نہ کوئی نام ستم گر کہے بغیر

شاہد محمود, لاہور

نہ ميں سمجھا نہ آپ آئے کہيں سے

پسينہ پونچھيے اپنی جبيں سے

جنید اختر، ٹورنٹو، کینیڈا

دوست بن کر جو ساتھ رہتا ہو

ايسے دشمن کو کون سمجھے گا

محمد عرفان، پاکستان