امریکہ: اتحادیوں کی’جاسوسی‘ پر یورپی حکومتوں سے تعلقات متاثر ہوئے

Image caption ایک مرتبہ بداعتمادی کا بیج بو دیا جائے تو انٹیلیجنس تعاون بہت مشکل ہو جاتا ہے:انگیلا مرکل

امریکہ نے تسلیم کیا ہے کہ اتحادیوں کی جاسوسی کرنے کے حالیہ الزامات کے بعد اس کے یورپی حکومتوں سے تعلقات میں تناؤ پیدا ہوا ہے۔

امریکی وزارتِ خارجہ کی ترجمان جین پساکی کے مطابق جاسوسی کے انکشافات بشمول جرمن چانسلر انگیلا مرکل کے ٹیلی فون کی خفیہ نگرانی کے الزامات سے عوام میں بے چینی پیدا ہوئی ہے۔

دوسری جانب جرمنی اس تنازع پر بات چیت کے لیے آئندہ ہفتے اپنے خفیہ اداروں کے سربراہوں کو واشنگٹن بھیج رہا ہے۔

امریکی’جاسوسی‘ پر یورپ غصے میں

امریکی وزارتِ خارجہ کی ترجمان کے مطابق جرمنی کے داخلی اور بیرونی انٹیلجنس سے متعلق اداروں کے سربراہان وائٹ ہاؤس اور نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے ساتھ مذاکرات کریں گے۔

اس سے پہلے جرمنی اور فرانس نے کہا تھا کہ اعتماد کی بحالی کے لیے امریکہ رواں برس کے اختتام سے پہلے اپنے اتحادیوں کے ساتھ جاسوسی نہ کرنے کا معاہدہ کرے۔

برسلز میں ایک سربراہ اجلاس کے دوران یورپی رہنماؤں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکہ کے بارے میں بڑھتی ہوئی بداعتمادی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو متاثر کر سکتی ہے۔

سپین نے جرمنی اور فرانس کی تقلید کرتے ہوئے جمعہ کو امریکی سیفر کو طلب کر کے ان سے امریکی جاسوسی کی اطلاعات پر ان سے وضاحت طلب کی۔

ادھر اٹلی نے بھی امریکی جاسوسی کی اطلاعات کے خلاف اپنے غصے کا اظہار کیا۔

دریں اثناء امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان جین پساکی نے کہا ہے کہ امریکہ نے اپنے جاسوسی کے نظام کا آزادانہ جائزہ شروع کر دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ باہر سے آنے والے اعلیٰ سطح کے ماہرین کا گروہ ہماری خفیہ معلومات اور مواصلات کی ٹیکنالوجی کا جائزہ لے گا۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان کے مطابق جائزے میں ماہرین دیکھیں گے کہ ہم عوام کا اعتماد کیسے برقرار رکھ سکتے ہیں، نگرانی کے پروگرام ہماری خارجہ پالیسی پر کیا اثر ڈالتے ہیں اور خاص طور پر ایسے دور میں جب زیادہ سے زیادہ معلومات تک عوام کی رسائی ممکن ہے۔

اس دوران برطانوی اخبار گارڈین نے خبر دی ہے کہ این ایس اے نے ایک امریکی اہلکار کے کہنے پر 35 عالمی رہنماؤں کی فون کالز کی نگرانی کی۔ یہ خبر بھی امریکی نگرانی کا راز افشا کرنے والے سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کے حوالے سے دی گئی ہے۔

برسلز میں منعقدہ اجلاس کے بعد ایک متفقہ بیان میں رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بداعتمادی پیدا ہونے سے خفیہ معلومات اکٹھا کرنے کے عمل میں تعاون کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

جمعہ کو جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپ امریکہ سے اپنے تعلقات کی قدر کرتا ہے تاہم انٹیلیجنس سے متعلق حالیہ معاملات نے یورپی عوام میں گہرے خدشات پیدا کیے ہیں۔

بیان کے مطابق رہنماؤں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خفیہ معلومات جمع کرنا ایک کلیدی معاملہ ہے اور بداعتمادی اس سلسلے میں ضروری تعاون کو متاثر کر سکتی ہے۔

جاسوسی کے تنازع پر امریکہ اور یورپی ممالک میں بات چیت کا مطالبہ ان اطلاعات کے بعد کیا گیا ہے جن کے مطابق امریکہ نے جرمن چانسلر کے ذاتی فون اور فرانس میں ہزاروں فون کالز کی نگرانی کی ہے۔

برسلز میں ہونے والے یورپی یونین کے اجلاس میں انگیلا مرکل نے کہا ’ایک مرتبہ بداعتمادی کا بیج بو دیا جائے تو انٹیلیجنس تعاون بہت مشکل ہو جاتا ہے‘۔

فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ امریکہ انٹیلیجنس اکٹھی کرنے کے معاملے میں ضابطہ بنائے۔

انہوں نے کہا ’فرانس اور جرمنی امریکہ کے ساتھ بات چیت کا آغاز کریں گے تاکہ اس سال کے آخر تک تعاون اور وضاحت کے حوالے سے مشترکہ لائحہ عمل بن سکے‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اگر دیگر یورپی ممالک اس میں شامل ہونا چاہیں تو انہیں خوش آمدید کہا جائے گا‘۔

فرانسوا اولاند نے مزید کہا ’ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ دوسرے معاملات کے ساتھ ساتھ ہم نہ صرف یہ وضاحت کریں کہ ماضی میں کیا ہوا بلکہ اس مستقبل کے لیے بھی اصولوں پر اتفاق کریں۔‘

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اپنے فون کی نگرانی کے الزامات کے حوالے سے کہا ’یہ قطعی غلط ہے کہ دوست ایک دوسرے کی جاسوسی کریں‘۔

اسی بارے میں