ایران: 14 اہلکاروں کی ہلاکت کے ’بدلے‘ میں 16 باغیوں کو پھانسی

Image caption ایران کے سرحدی علاقے میں شدت پسند سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بناتے رہے ہیں

ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان کی سرحد کے قریب مسلح افراد کے حملے میں سرحدی سکیورٹی فورس کے کم سے کم چودہ اہلکاروں کی ہلاکت کے ردِعمل میں سولہ باغیوں کو پھانسی دے دی گئی ہے۔

ایرانی صوبہ سیستان بلوچستان کے اٹارنی جنرل کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ’یہ باغی حکومت کے خلاف سرگرم گروہوں سے وابستہ تھے‘۔

’ناکامی پاکستانی اداروں کی نقصان ایران کا‘

ان باغیوں کو شمال مشرقی سراوان کے علاقے زاہدان کی ایک جیل میں پھانسی دی گئی۔ اسی علاقے میں جمعہ کو رات گئے اہلکاروں پر حملہ کیا گیا تھا۔

تاحال یہ تصدیق نہیں ہو پائی کہ یہ حملہ کس نے کیا تاہم جیش العدل نامی گروہ کو اس حملے کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ جن لوگوں کو پھانسی دی گئی ہے ان کا سرحدی حملے سے کوئی تعلق ہے بھی یا نہیں۔ ایک اطلاع کے مطابق ان افراد پر پہلے سے مقدمہ چلا کر انہیں سزا دی جاچکی تھی تاہم ان کی پھانسی کا وقت آگے بڑھتا رہا۔

ایرانی نیشنل سکیورٹی کی پارلیمانی کمیٹی اس حملے کے حوالے سے اتوار کو متعلقہ حکام سے ملاقات میں جائزہ لے گی۔

Image caption جن افراد کو پھانسی دی گئی ان پر حملے کا الزام نہیں تھا

ایرانی حکام کے مطابق اس حملے میں پانچ سکیورٹی اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں اور ارنا نیوز نے ایک اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’رہزن یا ایران مخالف باغی‘ اس واقعے میں ملوث ہیں۔

اٹارنی جنرل محمد مرضی نے ارنا نیوز کو بتایا کہ ’سرحدی محافظوں کی ہلاکت کے جواب میں حکومت مخالف گروہوں سے تعلق رکھنے والے سولہ باغیوں کو زاہدان کی جیل میں سنیچر کی صبح پھانسی دے دی گئی ہے‘۔

ان باغیوں پر بارڈر سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں کا الزام نہیں تھا لیکن اٹارنی جنرل کے مطابق باغیوں کا تعلق’حکومت مخالف گروہوں‘ سے تھا۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی نے ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نیوز کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکام اب تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا حملہ آور منشیات کے سمگلر تھے یا ان کا تعلق حکومت مخالف مسلح گروپ سے تھا۔

افغانستان سے یورپ منشیات سمگل کرنے کے لیے ایران ایک اہم راستہ ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق گزشتہ تیس سال کے دوران سمگلروں سے ہونے والے جھڑپوں میں چار ہزار پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایران میں مسلح گروہ جنداللہ حالیہ برسوں میں سکیورٹی فورسز پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتا رہا ہے۔

جند اللہ سنہ دو ہزار دو میں قائم کی گئی تھی اور اس کا مقصد ایران کے جنوب مشرقی حصے میں بلوچی اقلیت کی مفلسی کی طرف توجہ دلانا تھا جہاں کی مقامی سنی آبادی ایران کی شیعہ حکومت پر امتیازی سلوک کا الزام عائد کرتی ہے۔

اسی بارے میں