’اوباما کو آنگیلا میرکل کی نگرانی کے بارے میں بریفنگ نہیں دی‘

Image caption آنگیلا میرکل کی نگرانی کا معاملہ سامنے آنے کے بعد امریکہ اور جرمنی کے تعلقات میں کھنچاؤ پیدا ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے

امریکہ کے نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے اس خبر کی تردید کی ہے کہ ادارے کے سربراہ نے جرمنی کی چانسلر کے موبائل فون کی جاسوسی کے بارے میں صدر اوباما کو کوئی بریفنگ دی تھی۔

نیشنل سکیورٹی ایجنسی یا این ایس اے کے ترجمان وینی وائنز کا کہنا ہے کہ این ایس اے کے سربراہ جنرل کیتھ ایلیگزینڈر نے کبھی بھی جرمنی کی چانسلر کے موبائل فون کی جاسوسی کے بارے میں صدر اوباما سے بات نہیں کی۔

جرمن میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ گذشتہ دس برس سے زائد عرصے سے جرمنی کی چانسلر آنگیلا میرکل کے موبائل فون کی نگرانی کر رہا ہے اور صدر براک اوباما کو سنہ 2010 میں اس کے بارے میں بتایا گیا تھا۔

’جاسوسی‘ پر یورپی حکومتوں سے تعلقات متاثر ہوئے

امریکی ’جاسوسی‘ پر یورپ غصے میں

میڈیا میں ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے این ایس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ’صدر اوباما کو چانسلر میرکل کے موبائل کی مبینہ جاسوسی کی اطلاع کے بارے میں میڈیا میں رپورٹس بے بنیاد ہیں۔‘

تاہم ان کے بیان میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ صدر براک اوباما کو جاسوسی کے اس کارروائی کے بارے میں کوئی دوسرے ذرائع کے ذریعے خبردار کیا گیا تھا یا نہیں۔

اطلاعات کے مطابق صدر براک اوباما نے جرمن چانسلر انگیلا میرکل کو بتایا تھا کہ انھیں جاسوسی کے اس کارروائی کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔

جرمنی کے جریدے ڈا شپیگل کے دعوے کے مطابق امریکہ گزشتہ دس برس سے زائد عرصے سے جرمنی کی چانسلر آنگیلا میرکل کے موبائل فون کی نگرانی کر رہا ہے۔

ایک اور اطلاع کے مطابق سنہ 2010 میں امریکی صدر براک اوباما اس جاسوسی کے بارے میں بتایا گیا لیکن وہ اسے روکنے میں ناکام رہے۔

ڈا شپیگل نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کی وہ دستاویزات دیکھی ہیں جس میں سنہ 2002 میں آنگیلا میرکل کا موبائل فون نمبر موجود تھا جبکہ وہ تین برس بعد جرمنی کی چانسلر بنی تھیں۔

جریدے کے مطابق آنگیلا میرکل کے موبائل فون کی جاسوسی سنہ 2013 میں بھی جاری ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دستاویزات میں یہ بات واضح نہیں ہے کہ چانسلر آنگیلا میرکل کے موبائل کی جاسوسی کی نوعیت کیا تھی۔

جریدے کے مطابق مثال کے طور پر یہ ممکن ہے کہ چانسلر آنگیلا میرکل کی بات چیت ریکارڈ کی جا رہی ہو یا پھر ان کے تعلقات کے بارے میں جانا جا رہا ہو۔

دوسری جانب اخبار سنڈے بلڈ نے امریکی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے بتایا ہے کہ نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے سربراہ کیتھ الیگزینڈر نے سنہ 2010 میں بذاتِ خود صدر براک اوباما کو آنگیلا میرکل کی جاسوسی کے بارے میں بریفنگ دی تھی۔

اخبار نے این ایس اے کے ایک سینیئر اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ صدر براک اوباما نے جاسوسی کی اس کارروائی کو روکنے کے بجائے اسے جاری رہنے دیا۔

جرمنی نے آئندہ ہفتے اپنے خفیہ اداروں کے سربراہان کو واشنگٹن بھیجنے کا اعلان بھی کیا ہے تاکہ جاسوسی کے الزامات کی تحقیقات کو تیز کرنے پر زور دیا جا سکے۔

جرمنی کے وزیرِ داخلہ نے کہا ہے کہ اگر جاسوسی کی اس کارروائی کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ غیر قانونی عمل تصور ہوگا۔

ہینس پیٹر فریڈرک نے سنڈے بلڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جرمن سرزمین پر اس قسم کی کارروائی جرمن قانون کے تحت غیرقانونی ہے اور اس کے ذمہ داران سے قانون کے تحت نمٹا جائے گا۔

ڈا شپیگل نے این ایس اے کی جانب سے یورپی حکومتوں کی جاسوسی کے بارے میں بھی مزید تفصیلات شائع کی ہیں۔

جریدے کے مطابق برلن میں امریکی سفارت خانے میں سپیشل کلیکشن سروسز نامی ایک یونٹ ہے جو مواصلات کی جاسوسی کرتا ہے۔ اسی قسم کے یونٹ دنیا بھر کے اسّی ممالک میں موجود ہیں جن میں سے انیس یورپی ممالک میں ہیں۔

دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر امریکی سفارتخانوں میں ان یونٹس کی موجودگی کی خبر عام ہوتی ہے تو امریکہ کے غیر ملکی حکومتوں سے تعلقات کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اسی بارے میں